The news is by your side.

Advertisement

ملکۂ موسیقی روشن آرا بیگم کا تذکرہ

ملکۂ موسیقی روشن آرا بیگم کی زندگی کا سفر 6 دسمبر 1982ء کو تمام ہوا تھا اور گویا ان کے ساتھ ہی پاکستان میں‌ کلاسیکی گائیکی کا باب بھی بند ہوگیا۔ اپنے فن میں ممتاز اور باکمال گلوکارہ نے فلم پہلی نظر، جگنو، قسمت، نیلا پربت سمیت کئی فلموں کے لیے اپنی آواز میں لازوال گیت ریکارڈ کروائے۔

روشن آرا بیگم 1917 میں کلکتہ میں پیدا ہوئیں اور تقسیم کے بعد پاکستان ہجرت کی جہاں گلوکاری کے میدان میں انھوں نے نام و مقام بنایا۔ کلاسیکی موسیقی کی اس نام ور گلوکارہ نے اس فن کی تربیت اپنے قریبی عزیز اور استاد عبدالکریم خان سے لی تھی۔

انھوں نے اپنے زمانے کے کئی اہم موسیقاروں کی ترتیب دی ہوئی دھنوں کو اپنی آواز دے کر امر کردیا۔ ان میں انیل بسواس، فیروز نظامی اور تصدق حسین کے نام شامل ہیں۔

پاکستانی فلمی صنعت اور کلاسیکی موسیقی کے دلداہ روشن آرا بیگم کا نام بے حد عزت اور احترام سے لیتے ہیں۔

پاکستان بننے سے پہلے بھی وہ آل انڈیا ریڈیو کے پروگراموں میں حصہ لینے کے لیے لاہور کا سفر کیا کرتی تھیں، جب کہ موسیقی کی نجی محافل میں بھی انھیں فن کا مظاہرہ کرنے کے لیے مدعو کیا جاتا تھا۔

روشن آرا بیگم کی تان میں اُن کے کیرانا گھرانے کا رنگ جھلکتا ہے۔ کہتے ہیں ‌اُن کا تان لگانے کا انداز بہت ہی سہل اور میٹھا تھا۔

آج جہاں‌ کلاسیکی موسیقی کو فراموش کیا جاچکا ہے، بدقسمتی سے اس فن میں نام ور اور باکمال گلوکاروں کو بھی بھلا دیا گیا ہے اور ان میں سے اکثر کا ذکر بھی نہیں‌ کیا جاتا۔

روشن آرا بیگم نے کلاسیکی موسیقی کے دلدادہ ایک پولیس افسر احمد خان سے شادی کی تھی اور لالہ موسیٰ میں سکونت اختیار کرلی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں