The news is by your side.

Advertisement

جوہری سمجھوتہ: امریکی صدر کے فیصلے کا توڑ تیار کرلیا، ایرانی صدر حسن روحانی

تہران: ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کے جوہری سمجھوتے کے خاتمے کے لیے کسی بھی فیصلے سے نمٹنے کی غرض سے منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق حسن روحانی نے ٹی وی پر ایک تقریر میں کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ 2015 کے جوہری سمجھوتے سے دست بردار ہوا تو اسے مستقبل میں اس فیصلے پر تاریخی پچھتاوا ہوگا۔

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ہم نے جوہری سمجھوتے کے بارے میں صدر ٹرمپ کے فیصلے کی مزاحمت کا فیصلہ کیا ہے جنھوں نے کہا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے نکل جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ایران کے ایٹمی توانائی تنظیم اور متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ تواتر سے معاہدے کے خاتمے کی دھمکی دیتے آرہے ہیں، جنوری میں انھوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایران کے خلاف آخری مرتبہ امریکی پابندیاں اٹھارہے ہیں، اگر ان کے مطالبات ایک سو بیس دن میں پورے نہیں کیے گئے تو امریکہ معاہدے سے نکل جائے گا۔ خیال رہے کہ یہ ڈیڈ لائن بارہ مئی کو ختم ہورہی ہے، تاہم ٹرمپ نے اشارہ دیا تھا کہ اگر بات چیت آگے نہیں بڑھتی تو امریکہ ڈیڈ لائن سے قبل معاہدہ ختم کرسکتا ہے۔

ٹرمپ نے جوہری معاہدہ ختم کیا تو خطرناک نتائج برآمد ہوں گے، حسن روحانی

خیال رہے کہ ایرانی صدر نے یہ بیان صدر ٹرمپ کے ایران اور چھ بڑی طاقتوں کے درمیان تاریخی جوہری سمجھوتے کے بارے میں کسی ڈرامائی فیصلے کے اعلان سے ایک ہفتہ قبل جاری کیا ہے۔

دوسری طرف امریکی صدر کے وکیل اور معتمد ساتھی روڈی جیلیانی نے واشنگٹن میں آزادی ایران کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ ایران میں نظام کی تبدیلی کے لیے پُرعزم ہیں۔ ایران میں نظام کی تبدیلی ہی سے مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں امن قائم کیا جاسکتا ہے، یہ معاملہ اسرائیل فلسطین معاملے سے بھی زیادہ اہم ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں