The news is by your side.

Advertisement

سعودی اقاموں سے متعلق خوشخبری: شاہی فرمان جاری

ریاض: اقاموں کے ایکسپائر اور خروج وعودہ کے خاتمے سے پریشان افراد کی بڑی مشکل حل ہوگئی۔ اقاموں اور خروج وعودہ کی مدت میں مفت توسیع کے شاہی احکامات جاری کردیے گئے۔

سعودی عرب میں رہنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ اس کے پاس ایکٹو اقامہ ہو تاکہ وہ متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی سے محفوظ رہ سکیں۔

گزشتہ کچھ عرصے کے دوران عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث سعودی حکومت کی طرف سے متعدد بار اقامہ کی بلامعاوضہ تجدید کی گئی۔

"اقامہ ایکسپائر ہوگیا ہے، رینیو نہیں ہو رہا ہے چھٹی بھی نہیں بڑھ رہی ہے،  ایسی صورتِ حال میں کیا کیا جائے؟”

اس متعلق جوازات کا کہنا ہے کہ ایسے ممالک سے تعلق رکھنے والے اقامہ ہولڈرز تارکین جن کے براہ راست مملکت آنے پر پابندی تھی ان کی آسانی کے لیے شاہی احکامات جاری ہوچکے ہیں۔

شاہی احکامات کے مطابق اقاموں اور خروج وعودہ کی مدت میں مفت توسیع کی جائے گی، ’ایگزٹ ری انٹری‘ کی مدت میں 31  مارچ 2022 تک توسیع کی جائے گی جس کے لیے مرحلہ وار عمل جاری ہے۔

مذکورہ احکامات سے قبل سعودی حکومت نے 31 جنوری 2022 تک اقاموں اور خروج وعودہ کی مدت میں مفت توسیع کی گئی تھی۔ وہ افراد جن کے اقاموں اور خروج وعودہ کی مدت میں تاحال توسیع نہیں کی گئی وہ اپنی باری کا انتظار کریں، شاہی احکامات کے بعد ان پر متعلقہ ادارے عمل کر رہے ہیں۔

"اگر کوئی چھٹی پر اپنے وطن گیا ہو تو کیا اس کا فائنل ایگزٹ (خروج نہائی) لگ سکتا ہے؟”

جوازات کا اس متعلق یہ کہنا ہے کہ امیگریشن قوانین کے مطابق خروج وعودہ ویزہ پر جانے والوں کا فائنل ایگزٹ نہیں لگتا، اس کے لیے مملکت میں موجود رہنا ضروری ہے۔ فائنل ایگزٹ ویزے کے لیے بنیادی شرط کار آمد اقامہ کے ہونے کی ہے جس کی مدت کم ازکم 60 دن ہو۔

خروج وعودہ پر گئے ہوئے افراد کا ویزہ یقنی اقامہ کینسل "خرج ولم یعد” کی سہولت یعنی "جا کر واپس نہ آنے والے” کے آپشن کو استعمال کر کے کرایا جا سکتا ہے۔

یہ بات واضح رہے کہ وہ غیر ملکی جن کے اقامہ اسپانسر کی جانب سے کینسل کرادیے گئے ہیں یا وہ خروج وعودہ ویزے پر جاکر مقررہ مدت میں واپس سعودی عرب نہیں آتے تو اس پر قانون کی خلاف ورزی لاگو ہوتی ہے۔ ایسے افراد 3 برس تک سعودی عرب نہیں آسکتے تاہم وہ صرف اپنے سابق اسپانسر کی جانب سے جاری کرائے گئے نئے ویزے پر ہی آسکتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں