The news is by your side.

Advertisement

پہلےنو ماہ میں مالیاتی خسارے کا حجم 1922ارب روپے تک جا پہنچا

اسلام آباد : رواں مالی سال کےہلے 9ماہ کے دوران بجٹ خسارہ 1922ارب روپے تک پہنچ گیا، جو جی ڈی پی کا پانچ فیصد ہے، مالیاتی خسارے میں اضافے کی اہم وجہ قرضوں پر سود کی ادائیگی ہے

تفصیلات کے مطابق رواں مالی سال کے 9ماہ میں بجٹ اخراجات و آمدنی کی تفصیلات جاری کر دی گئیں، جس میں کہاگیاکہ پہلے 9ماہ کے دوران بجٹ خسارہ 1922ارب روپے تک پہنچ گیا، جو جی ڈی پی کا پانچ فیصد ہے، گزشتہ سال کے ایسی عرصے میں مالیاتی خسارے کا حجم چودہ سو اسی ارب روپےتھا۔

وزارت خزانہ کے مطابق رواں مالی سال کے بجٹ میں بجٹ خسارے کا ہدف تخمینہ 1891ارب روپے تھا جبکہ بجٹ خسارے کو پورا کرنے کیلئے مقامی ذرائع سے 1398ارب روپے کا قرضہ لیا گیا، صوبوں نے وفاق کو 285 ارب روپے ہدف کے برعکس 292ارب روپے فاضل بجٹ دے دیا۔

وزارت خزانہ کا کہنا تھا بجٹ خسارے کو پورا کرنے کیلئے بیرونی ذرائع سے 524ارب روپے کا قرضہ لیا، رواں مالی سال کے پہلے 9ماہ میں مجموعی آمدنی 3584ارب روپے رہی اور 5506ارب روپے کے اخراجات رہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق 1459ارب روپے سود کی مد میں 775ارب روپے دفاع پر خرچ کئے گئے، بجٹ میں سود کی ادائیگی کیلئے 1678ارب روپے اور دفاع کیلئے 1100ارب روپے مختص تھے۔

وزارت خزانہ کے مطابق ٹیکس آمدنی 3162ارب روپے اور نان ٹیکس آمدنی 421ارب روپے رہی،ٹیکس آمدنی کا ہدف 4888ارب روپے اور نان ٹیکس آمدنی کا ہدف772ارب روپے تھا۔

پہلے 9ماہ میں این ایف سی کے تحت صوبوں کو 1779ارب روپے کے فنڈز دئیے گئے،این ایف سی کے تحت صوبوں کو 2590ارب روپے منتقل کرنے کا ہدف مقرر تھا۔

اخراجات میں اضافے کی اہم وجہ قرضوں پرسودکی ادائیگیاں ہیں، ادائیگیوں کاحجم جی ڈی پی کاتین اعشاریہ آٹھ فیصدہوگیاجوکہ دوہزارنو سے اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔

خیال رہے سال دوہزارکے بعدسب سےزیادہ مالیاتی خسارہ مالی سال دوہزار بارہ تیرہ میں ریکارڈ کیاگیا تھا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کےآخری سال میں مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا آٹھ فیصد تک پہنچ گیا تھا۔

ادائیگیوں کاحجم جی ڈی پی کاتین اعشاریہ آٹھ فیصدہوگیاجوکہ دوہزار نو سے اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں