بھارتی نصاب سے مغل دور حکومت خارج کردیا گیا -
The news is by your side.

Advertisement

بھارتی نصاب سے مغل دور حکومت خارج کردیا گیا

نئی دہلی: بھارتی ریاست مہاراشٹر کے تعلیمی بورڈ نے ریاست کے اسکولوں میں پڑھائے جانے والے نصاب پر نظر ثانی کرتے ہوئے اس میں سے مغلوں سمیت دیگر تمام مسلمان حکمرانوں کے بارے میں تمام اسباق خارج کردیے۔

ریاست مہاراشٹر میں ساتویں اور نویں جماعت کی تاریخ کی نصابی کتابوں میں سے مغلوں کے دور حکومت کو خارج کرتے ہوئے مراٹھی حکومت کے بانی شیوا جی کو مرکزی حیثیت دے دی گئی۔

نصاب میں تبدیلی پر معمور کمیٹی کے ایک رکن کے مطابق نصاب میں ایسی تاریخ کو شامل کرنا ضروری تھا جو جدید دور سے ہم آہنگ ہو۔

انہوں نے اس اقدام کی وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ہم مہاراشٹر کی تاریخ کو مرکزی حیثیت دینے کی کوشش کر رہے ہیں، کیونکہ مہاراشٹر کی نئی نسل کو اپنی ریاست کی تاریخ سے واقفیت حاصل کرنا زیادہ ضروری ہے بہ نسبت اس کے، کہ وہ پورے بھارت کی تاریخ یا مسلمانوں کے ادوار حکومت کی تاریخ کے بارے میں پڑھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کے مرکزی تعلیمی بورڈ نے بھی نصاب میں مہاراشٹر کی بہت معمولی تاریخ شامل کی ہے جو ناکافی ہے۔

ریاست کے نصاب میں مرکزی حیثیت دیے جانے والے شیوا جی جو اس سے قبل ’عام افراد کے بادشاہ‘ کے طور پر پیش کیے گئے تھے، اب انہیں ایک مثالی حکمران کی حیثیت دیتے ہوئے نصاب میں شامل کیا گیا ہے۔

نئی کتابوں میں مغل دور سے قبل کے مسلمان حکمران جیسے رضیہ سلطان اور محمد بن تغلق کے ادوار کو بھی مختصر کردیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: ہندوستان کی عظیم تخت نشین خاتون ۔ رضیہ سلطان

علاوہ ازیں ان تمام تاریخی مقامات کے بارے میں اسباق بھی حذف کردیے گئے ہیں جو مغلوں یا دیگر مسلمان حکمرانوں نے تعمیر کیے۔

نصاب میں ’شیوا جی سے قبل کا بھارت‘ کے نام سے سبق شامل کیا گیا ہے جس میں تمام مسلمان حکمرانوں کی تاریخ مختصراً سمو دی گئی ہے جو اس سے قبل 5 اسباق پر محیط تھی۔

اسی طرح مغل دور حکومت سے بھی صرف ان واقعات و عوامل کو شامل کیا گیا ہے جن کے اثرات مہاراشٹر پر مرتب ہوئے۔

مغل تاریخ کا ایک اور اہم پہلو فن تعمیر جس میں شہرہ آفاق تاج محل، اور فتح پور سیکری کی تاریخ شامل تھی، اسے بھی خارج کردیا گیا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں