(5 مارچ 2026): ایران اسرائیل جنگ اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث پٹرول 1500 روپے فی لیٹر ہونے کی افواہ پر افراتفری پھیل گئی۔
ایران، اسرائیل اور امریکا جنگ کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد خام تیل کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔
اس صورتحال کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں تیزی سے اوپر جا رہی ہیں، جس کا اثر لامحالہ آئندہ چند روز میں ہر ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر پڑے گا اور بڑا اضافہ متوقع ہے۔
ایسے میں بھارت کے شہر حیدرآباد دکن میں سوشل میڈیا پر یہ افواہ پھیلی کہ آئندہ چند روز میں پٹرول بحران آنے والا ہے۔ پٹرول پمپ بند کر دیے جائیں گے جب کہ اس کی قیمت 500 روپے فی لیٹر (پاکستانی تقریباً 1500 روپے) تک ہو جائے گی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ افواہ پھیلتے ہی شہر میں افراتفری مچ گئی اور رات گئے موٹر سائیکل اور گاڑی مالکان اپنی اپنی گاڑیوں کے ساتھ پٹرول پمپوں پر پہنچ گئے اور احتیاطی طور پر گاڑیوں کے ٹینک فل کروا لیے۔
کئی افراد بوتلیں اور ڈبے لے کر اس میں پٹرول خریدتے دیکھے گئے۔ اچانک عوامی رش کے باعث پٹرول پمپ ملازمین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
تاہم حکام نے پٹرول کی قیمت میں کسی غیر معمولی اضافے یا سپلائی کی بندش سے متعلق خبروں کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی سپلائی معمول کے مطابق جاری ہے اور عوام کو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔
انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ خبروں پر یقین نہ کریں اور انہیں آگے شیئر کرنے سے گریز کریں کیونکہ بلا ضرورت پٹرول ذخیرہ کرنے سے مصنوعی قلت پیدا ہو سکتی ہے جس سے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔
ایران اسرائیل جنگ، عالمی مارکیٹس میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


