The news is by your side.

Advertisement

سال 2019: حکومتی اصلاحات کے نتیجے میں روپے کی قدر میں استحکام رہا

اسلام آباد: سال 2019 کی پہلی ششماہی پاکستانی کرنسی اور اسٹاک مارکیٹ دونوں کے لیے انتہائی سخت ثابت ہوئی، دوسری ششماہی میں دونوں میں نمایاں استحکام دیکھنے میں آیا۔

تفصیلات کے مطابق سال 2019 کا آغاز پاکستانی کرنسی کے لیے کچھ خاص بہتر نہ ثابت ہوسکا، تاہم حکومت کے معاشی استحکام کے لیے کی گئی اصلاحات کے نتیجے میں جولائی کے بعد سے روپے کی قدر میں استحکام دیکھا جا رہا ہے۔

دسمبر 2018 کے اختتام پر ڈالر کی قیمت 140 روپے تھی جو اب بڑھ کر 155 سے زائد پر آگئی ہے، گزشتہ سال کے دوران روپے کی قدر تاریخ کی کم ترین سطح پر بھی دیکھی گئی۔ 3 جولائی کو ایک ڈالر 163 روپے 07 پیسے پر فروخت ہوا۔

پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں بھی یہی رجحان دیکھنے میں آیا۔ 31 دسمبر 2018 کو انڈیکس 37 ہزار 66 پوائنٹس پر بند ہوا۔ اس کے بعد سال 2019 میں اگست میں انڈیکس 28 ہزار 765 کی کم ترین سطح پر دیکھا گیا۔

تاہم اس کے بعد سے انڈیکس میں تیزی دیکھی گئی، 17 دسمبر کو انڈیکس 42 ہزار پوائنٹس کی سطح پر جا پہنچا۔

رواں برس حکومتی کاوشوں اور ملکی معاشی صورتحال میں بہتری کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہوا۔ سال بھر میں انڈیکس 10.9 فیصد جبکہ کم ترین سطح سے 43 فیصد بڑھ چکا ہے۔

گزشتہ برس بیرونی کھاتوں میں استحکام سے روپے کی قدر میں بھی پہلے بہتری اور پھر استحکام دیکھا گیا، تاہم ماہرین نئے سال میں ڈالر کی قیمت بڑھنے کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں