افریقی خواتین اپنے گاؤں کو روشن کرنے کے مشن پر -
The news is by your side.

Advertisement

افریقی خواتین اپنے گاؤں کو روشن کرنے کے مشن پر

طویل خانہ جنگیوں کے شکار ممالک کو جنگ ختم ہونے کے بعد اپنی معیشت اور انفرا اسٹرکچر کی بحالی، یا یوں کہہ لیجیئے کہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے لیے ایک طویل وقت درکار ہوتا ہے۔

اس دور میں ملک کے ہر شخص کو، چاہے وہ تعلیم یافتہ ہو یا نہ ہو، کسی بھی شعبہ، کسی بھی ذریعہ روزگار سے تعلق رکھتا ہو، صنف اور عمر کی تفریق کے بغیر فعال کردار ادا کرنے کی ضورت ہوتی ہے تاکہ ملک کو جنگ کی تباہی سے نکالا جاسکے۔

براعظم افریقہ اس لحاظ سے ایک بدقسمت خطہ ہے کہ وہاں کے زیادہ تر ممالک طویل عرصے سے خونی تنازعوں اور خانہ جنگیوں میں الجھے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افریقہ کا شمار تیسری دنیا میں ہوتا ہے جہاں زندگی کی بنیادی سہولیات بھی ناپید ہیں اور ہر طرف بھوک، غربت اور خوف کے سائے ہیں۔

مغربی افریقہ کا ملک لائبیریا بھی ایسا ہی ملک ہے جو سنہ 1989 سے 1997 تک ایک طویل خانہ جنگی کا شکار رہا۔ اس جنگ میں 6 لاکھ افراد مارے گئے۔

ابھی ملک اس جنگ کی تباہ کاریوں سے سنبھلنے بھی نہ پایا تھا کہ سنہ 1999 میں ایک اور خانہ جنگی کا آغاز ہوگیا جو بظاہر تو لائبیریا میں جمہوریت کے لیے لڑی جارہی تھی، تاہم اس جنگ نے بچی کچھی زراعت، معیشت اور انفرا اسٹرکچر کو بھی تباہ کردیا۔

ان خانہ جنگیوں نے لوگوں سے زندگی کی بنیادی ضروریات بھی چھین لی۔ دور دور تک غربت، بے روزگاری اور جہالت کا اندھیرا ہے۔

دو طویل خانہ جنگیوں نے اس ملک کو بجلی کی نعمت سے بھی محروم کردیا ہے۔ آج اس تباہ حال ملک کی صرف 10 فیصد آبادی ایسی ہے جسے جدید دور کی یہ بنیادی سہولت یعنی بجلی میسر ہے۔

لائبیریا کا گاؤں ٹوٹوا بھی ایسا ہی گاؤں ہے جہاں کبھی پاور گرڈز موجود تھے مگر خانہ جنگی کے دوران یہ تباہ کردیے گئے جس کے بعد سے گاؤں والے بیٹری سے چلنے والے لالٹینوں سے اپنے گھروں کو روشن کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: پناہ گزین کیمپ کی خواتین کا معاشی خوشحالی کا سفر

یہاں کچھ قریبی آبادیاں جو ذرا خوشحال ہیں، اپنے گھروں کو جنریٹرز سے روشن رکھتی ہیں۔

توانائی کے اس ذریعہ کا مرکز قریب واقع ایک جزیرہ ہے جسے مقامی زبان میں ’540‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ دراصل خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد لائبیرین فوجیوں کو ہتھیار ڈالنے کے عوض 540 ڈالر ادا کیے گئے تھے، اور اس جزیرے سے بجلی کی سہولت سے فائدہ اٹھانے والے زیادہ تر یہی فوجی ہیں جو ان ڈالرز کی بدولت اپنے ہم وطنوں کی نسبت کچھ خوشحال ہیں۔

یہ گاؤں یوں ہی اندھیروں میں ڈوبا رہتا، اگر اقوام متحدہ ان کی مدد کو آگے نہ بڑھتا۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین یو این وومین نے ان دیہاتوں کو بجلی کی فراہمی کے لیے شمسی توانائی کے ذرائع کا سوچا۔

تاہم مسئلہ یہ تھا کہ اگر یہاں شمسی پینل نصب کردیے جائیں تو ان کی دیکھ بھال اور مرمت کون کرے گا؟ تب یو این وومین نے اس مقصد کے لیے یہاں کی خواتین کو چنا۔

پروجیکٹ کے آغاز کے بعد لائبیریا کے علاوہ یوگنڈا، جنوبی سوڈان اور تنزانیہ کے متعدد دیہاتوں سے کچھ خواتین منتخب کی گئیں جنہیں سولر پینلز کی دیکھ بھال کی تربیت دی گئی۔ اب یہ خواتین سولر انجینئرز کہلائی جاتی ہیں۔

شمسی توانائی کی آمد سے قبل گاؤں والے اپنے گھروں کو مٹی کے تیل سے جلنے والے لالٹینوں سے روشن رکھتے تھے جو ان کی صحت اور ماحول دونوں کے لیے خطرناک تھے۔

تاہم اب گاؤں میں خواتین سولر انجینئر کی موجودگی کے باعث گاؤں کا بڑا حصہ روشنی کی نعمت سے مالا مال ہوگیا ہے۔

یہ خواتین گاؤں کے مختلف گھروں میں ان پینلز کی تنصیب کا کام کرتی ہیں۔ علاوہ ازیں جن گھروں میں یہ پینلز نصب ہیں، کسی خرابی کی صورت میں یہ وہاں جا کر مرمت بھی کرتی ہیں۔

امن کی جھونپڑیاں

لائبیریا میں خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد گاؤں کی ان خواتین نے امن کی جھونپڑیاں یا پیس ہٹس بنانے بھی شروع کردیے جن کا رجحان ملک بھر میں پھیل گیا۔ یہ جھونپڑیاں جنگ سے نفرت اور امن کے فروغ کا اظہار تھیں۔

ان جھونپڑیوں کی حیثیت ایسی ہی ہے جیسے برصغیر میں چوپال کی، بس فرق یہ ہے کہ افریقہ کی یہ چوپال خواتین کے لیے ہے۔

مزید پڑھیں: خواتین کے لیے صحت مند تفریح کا مرکز ویمن ڈھابہ

اب جبکہ کئی دیہات شمسی توانائی کی بدولت روشن ہوچکے ہیں تو ان جھونپڑیوں میں رات کے وقت محفلیں جمتی ہیں جہاں خواتین مطالعہ کرتی ہیں، ایک دوسرے کے مسائل اور ان کے حل کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں اور کچھ پل فرصت کے گزارتی ہیں۔

ان خواتین کا عزم ہے کہ سولر انجینئرز کی تربیت لینے کے بعد یہ ملک کے دیگر پسماندہ حصوں کی خواتین کی بھی تربیت کریں تاکہ پورے ملک سے اندھیرے دور ہوں اور لائبیریا پھر سے ایک روشن ملک بن جائے۔

مضمون و تصاویر بشکریہ: یو این وومین


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں