روس کا کہنا ہے کہ امریکا نے وینزویلا کے ٹینکر کو قبضے میں لے کر سمندری قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔
روس نے امریکا پر سمندری قانون کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا آئل ٹینکر سے رابطہ ٹوٹ گیا ہے۔
روس کی وزارت ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ شمالی بحر اوقیانوس میں امریکی بحری افواج کے سوار ہونے کے بعد اس کا روسی پرچم والے میرینیرا آئل ٹینکر سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔
ایک بیان میں وزارت نے کہا کہ امریکی فوج کی جانب سے جہاز کو ضبط کرنا سمندری قانون کی خلاف ورزی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ "بحیرہ کے قانون سے متعلق 1982 کے اقوام متحدہ کے کنونشن کے مطابق سمندروں میں جہاز رانی کی آزادی کا اطلاق ہوتا ہے، اور کسی بھی ریاست کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ دیگر ریاستوں کے دائرہ اختیار میں قانونی طور پر رجسٹرڈ جہازوں کے خلاف طاقت کا استعمال کرے۔”
امریکی فوج نے وینزویلا سے منسلک روسی آئل ٹینکر قبضے میں لے لیا۔
امریکی فوج نے ایک ہفتے کے طویل تعاقب کے بعد شمالی بحر اوقیانوس میں وینزویلا سے روابط رکھنے والے روسی پرچم والے آئل ٹینکر کو قبضے میں لے لیا ہے۔
امریکی فوج کی یورپی کمان نے بدھ کے روز کہا کہ میرینیرا آئل ٹینکر، جو اصل میں بیلا-1 کے نام سے جانا جاتا ہے، کو "امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے پر” قبضے میں لیا گیا ہے۔
یہ بحری جہاز جو اس وقت خالی ہے ماضی میں وینزویلا سے خام تیل کی رسد میں اہم کرداد ادا کرتا رہا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کا کہنا ہے روس نے آبدوز بھی روانہ کردی ہیں، منگل کو امریکی فوج کی سدرن کمانڈ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا وہ پابندی شدہ جہازوں اور عناصر کیخلاف کارروائی کیلئے تیار ہیں۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ہماری بحریہ متحرک ہے، جب بھی حکم آئے گا ہم اس پر عملدرآمد کیلئے پہنچ جائیں گے، نکولس مادورو کی گرفتاری سے قبل صدر ٹرمپ نے بارہا الزام لگایا کہ وینزویلا کی حکومت جہازوں کے ذریعے امریکا میں منشیات اسمگل کررہی ہے۔


