The news is by your side.

Advertisement

روس، امریکا ایک بار پھر آمنے سامنے آ گئے

ماسکو: امریکا اور روس کے درمیان کشیدگی میں پھر اضافہ ہو گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق روس اور امریکا ایک بار پھر آمنے سامنے آ گئے ہیں، امریکی جنگی بیڑا یو ایس ایس پورٹر یوکرین کے سلسلے میں نیٹو کی حمایت کے لیے بحیرہ اسود میں داخل ہوگیا۔

عالمی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ایک اور امریکی جنگی بیڑا مذکورہ علاقے میں تعینات امریکا کے دو دیگر جنگی بیڑوں میں شامل ہو گیا ہے، دوسری طرف کریمیا جزیرے میں تعینات روسی ایئر ڈیفنس سسٹم فوجی مشقوں کے بہانے سرگرم ہو گیا ہے۔

امریکی بحریہ نے بحیرہ اسود میں اپنی موجودگی میں اضافہ کر دیا ہے، یہ 2017 کے بعد بحیرہ اسود میں امریکی نیوی کی بڑی سرگرمی ہے، چند دن قبل ہی صدر بائیڈن نے ماسکو کو متنبہ کیا تھا کہ اگر روس نے خطے میں جارحیت کی تو اس کے خلاف امریکا سخت قدم اٹھائے گا۔

روس اور نئی امریکی حکومت نے اہم سمجھوتے پر اتفاق کر لیا

امریکی صدر جو بائیڈن کو اقتدار سنبھالے ابھی چند ہی دن ہوئے ہیں، لیکن ایک طرف روس کے ساتھ اس کی کشیدگی بڑھ گئی ہے، دوسری طرف چین کے ساتھ بھی کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی صدر جو بائیڈن اور روسی صدر پیوٹن نے ایک اہم جوہری سمجھوتے کی توسیع پر اتفاق کیا تھا، وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ جو بائیڈن کے منصب سنبھالنے کے بعد دونوں رہنماؤں نے یہ پہلی بار فون پر گفتگو ہوئی، جس کا مرکزی موضوع دونوں ممالک کے درمیان نیو اسٹارٹ معاہدہ تھا جو جوہری ہتھیاروں کی تخفیف سے متعلق ایک سمجھوتا ہے، جو 5 فروری کو اپنی میعاد پوری کر رہا ہے۔

اس گفتگو میں جو بائیڈن نے روسی ہم منصب سے امریکی انتخابات کے دوران روسی سائبر حملے، روس کے اپوزیشن رہنما کی گرفتاری اور انھیں زہر دینے سمیت یوکرین میں روسی جارحیت پر بات کی اور کہا کہ امریکا روسی جارحیت کے خلاف یوکرین کی حمایت کرتا ہے۔ جو بائیڈن نے واضح کیا کہ اگر روس کی جانب سے امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو بھرپور طریقے سے اپنا دفاع کیا جائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں