ہفتہ, مئی 16, 2026
اشتہار

روس نے پاکستان سے آلو کی درآمد کی منظوری دے دی

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد(11 اپریل 2026): پاکستان کی زرعی برآمدات کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس میں روس کے فیڈرل سروس برائے ویٹرنری اینڈ فائٹوسینٹری سرویلنس نے پنجاب سے روس کو آلو کی درآمد کی اجازت دے دی ہے۔

ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے بیان کے مطابق اس فیصلے کا اطلاق 8 اپریل 2026 سے ہو چکا ہے۔یہ منظوری مئی 2025 سے نافذ العمل قرنطینہ  پابندیوں کے خاتمے کے بعد دی گئی ہے۔ ابتدائی مرحلے میں روسی حکام نے تین پاکستانی برآمد کنندگان میسرز چیز انٹرنیشنل، میسرز زاہد کنو گرائنڈنگ اینڈ ویکسنگ پلانٹ، اور میسرز نیشنل فروٹ کو درآمدات کی اجازت دی ہے۔

ماسکو میں پاکستانی تجارتی مشن کی سربراہ شبانہ عزیز نے بتایا کہ مستقبل قریب میں مزید کمپنیوں کو بھی رجسٹرڈ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور پی ایچ ڈی ای سی کی ٹیموں کے تعاون سے ورچوئل میٹنگز کا اہتمام کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستانی برآمد کنندگان اس ابھرتے ہوئے موقع سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔

پاکستان میں اس وقت آلو کی بمپر فصل ہوئی ہے جس کی پیداوار کا تخمینہ تقریباً 12 ملین ٹن لگایا گیا ہے۔ روسی مارکیٹ تک رسائی سے زائد اسٹاک کو کھپانے، مقامی قیمتوں کو مستحکم کرنے، کسانوں کی مدد اور قیمتی زرمبادلہ کمانے میں مدد ملے گی۔

یہ کامیابی وزارتِ تحفظِ خوراک، محکمہ تحفظِ نباتات، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان ہارٹیکلچر ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی اور ماسکو میں پاکستانی تجارتی مشن کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔

واضح رہے کہ جنوری میں پنجاب حکومت نے وفاقی حکومت سے آلو اور کنو کی برآمد کے لیے مال برداری کے اخراجات میں کمی کی درخواست کی تھی، خاص طور پر ایران کے راستے، تاکہ کاشتکاروں اور برآمد کنندگان کو درپیش رکاوٹیں دور کی جا سکیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں