واشنگٹن (10 مئی 2026): علاقائی کشیدگی اور مغربی پابندیوں کے دوران سپلائی کے نئے اور پیچیدہ راستے سامنے آ رہے ہیں، جو اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ روس، ایران اور چین ایران کے فوجی پروگرام اور اس کی پیداواری صلاحیت پر بڑھتے ہوئے امریکی دباؤ کا مل کر مقابلہ کر رہے ہیں۔
امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں پر جاری امریکی ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد، روس نے بڑھتے ہوئے دباؤ کے دوران بحیرہ قزوین (بحیرہ کیسپین) کے ذریعے ایران کو سامان کی ترسیل شروع کر دی ہے۔
بحیرۂ کیسپین خلیج فارس سے سینکڑوں میل شمال میں واقع ایک وسیع آبی ذخیرہ ہے۔ نیویارک ٹائمز نے ہفتے کے روز اپنی رپورٹ میں کہا کہ اگرچہ اس سمندر کو عموماً نظر انداز کیا جاتا رہا ہے، تاہم اب یہ روس اور ایران کے درمیان تجارتی راستے کے طور پر نئی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق روس بحیرۂ کیسپین کے ذریعے ایران کو ڈرونز کے پرزے فراہم کر رہا ہے، جس سے ایران حالیہ لڑائی میں اپنے تقریباً 60 فی صد ڈرون ذخیرے کے نقصان کے بعد اپنی حملہ آور صلاحیت دوبارہ بحال کر رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روس ایسے سامان بھی ایران بھیج رہا ہے جو عام طور پر عالمی تجارت کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرتا، تاہم اب یہ راستہ امریکی بحریہ کی ناکہ بندی کی وجہ سے متاثر ہے۔
بحری نگرانی کرنے والے اداروں کے مطابق جاپان سے بھی بڑے بحیرۂ کیسپین کو دنیا کی سب سے بڑی جھیل سمجھا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے ہونے والی زیادہ تر تجارت غیر شفاف ہے اور اس کی نگرانی کرنا مشکل ثابت ہوا ہے، کیوں کہ روسی اور ایرانی بندرگاہوں کے درمیان سفر کرنے والے جہاز اکثر اپنے ٹرانسپونڈر بند کر دیتے ہیں، جن کے ذریعے سیٹلائٹ نگرانی ممکن ہوتی ہے۔
روس نے 2015 میں بھی ایران سے افزودہ یورینیم منتقل کیا تھا، پیوٹن نے پھر پیشکش کر دی
پیرس کے ادارے سائنسز پو سے وابستہ ایران اور روس کی ماہر پروفیسر نکول گریجویسکی کے مطابق ’’اگر آپ پابندیوں سے بچنے اور فوجی سامان کی منتقلی کے لیے کسی مثالی مقام کے بارے میں سوچیں تو وہ بحیرۂ کیسپین ہے۔‘‘
ڈرون پرزوں کی ترسیل ماسکو اور تہران کے درمیان قریبی دفاعی شراکت داری کو ظاہر کرتی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اگرچہ روسی پرزے ایران کی امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ میں فیصلہ کن کردار ادا نہ بھی کریں، تاہم وہ تہران کے ڈرون ذخیرے کو مضبوط بنانے میں مددگار ہیں۔ اگر یہ ترسیلات جاری رہیں تو ایران جلد اپنے ڈرون ذخیرے کو دوبارہ بحال کر سکے گا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


