The news is by your side.

Advertisement

یورپی ممالک کا دوغلا پن، روس پر پابندیوں کے ساتھ ریکارڈ خریداری

ہیلسنکی: یوکرین پر روسی حملے کے بعد ایک طرف یورپی ممالک اور امریکا روس پر پابندیاں عائد کررہے ہیں اور دیگر ممالک پر بھی دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ بھی اس سے خریداری نہ کریں وہیں دوسری جانب یورپی ممالک خود روس سے ریکارڈ درآمدات بھی کررہے ہیں۔

فن لینڈ میں قائم ایندھن اور صاف ہوا سے متعلق تحقیق کرنے والے ایک آزاد مرکز ’’سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ائر‘‘ کی جانب سے ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے، جس نے یورپی ممالک کی روس سے خریداری کی پابندیوں کے دعوؤں کی قلی کھول دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق روس نے یوکرین کے ساتھ جنگ کے پہلے 100 دنوں میں ایندھن کی ریکارڈ برآمدات کرکے 93 ارب یورو (98 ارب ڈالر) کما لیے ہیں۔ برآمدات کا بڑا حصہ یورپی ممالک کو کیا گیا ہے، جو روس سے ایندھن کی مجموعی برآمدات کا 61 فیصد بنتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: روس کو رواں ماہ تیل اور گیس کی مد میں ریکارڈ آمدنی

سی آر ای اے کا رپورٹ میں کہنا ہے کہ ان 100 دنوں کے دوران روسی ایندھن کا سب سے بڑا خریدار چین ہے جبکہ جرمنی دوسرے اور اٹلی تیسرے نمبر رہا۔ چین نے 12.6 ارب یورو، جرمنی نے 12.1 ارب اور اٹلی نے 7.8 ارب کا ایندھن برآمد کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں