The news is by your side.

بحری بیڑے پر حملہ کیوں کیا؟ روس یوکرین کے اناج معاہدے سے پیچھے ہٹ گیا

ماسکو: روس نے یوکرین کے اناج معاہدے میں اپنی شرکت معطل کر دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یوکرین نے کریمیا میں بحیرہ اسود کے بحری بیڑے پر ڈرون حملے کیے، جس کے بعد روس اناج معاہدے سے پیچھے ہٹ گیا۔

روس کی وزارت دفاع کے مطابق یوکرین نے ہفتے کے اوائل میں جزیرہ نما کریمیا میں سیواستوپول کے قریب بحیرہ اسود کے بحری بیڑے پر 16 ڈرونز سے حملہ کیا۔

ماسکو نے اس حملے کو دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ برطانوی بحریہ کے ’ماہرین‘ نے بھی اس حملے کو مربوط کرنے میں مدد کی تھی، تاہم لندن نے ماسکو کے دعوے کو دو ٹوک الفاظ میں مسترد کر دیا ہے۔

اناج معاہدہ اقوام متحدہ اور ترکی کی ثالثی میں جولائی میں کیا گیا تھا، یہ معاہدہ خوراک کے عالمی بحران کو کم کرنے کے لیے بے حد اہم قرار دیا گیا ہے، جس کے تحت یوکرین سے ضروری اناج کی برآمدات کی اجازت دی گئی تھی، اب روس اس معاہدے سے دست بردار ہو گیا ہے، اس کا کہنا ہے کہ یوکرین نے کریمیا میں اس کے بحری بیڑے پر ڈرون حملہ کیا۔

اناج معاہدے کے تحت یوکرینی بندرگاہوں سے 9 ملین ٹن سے زیادہ اناج کی برآمد کی اجازت دی جا چکی ہے، اور 19 نومبر کو اس کی تجدید کی جانی تھی۔

یوکرین نے رد عمل میں کہا ہے کہ روس کا اقوام متحدہ کی ثالثی میں کیے گئے بحیرہ اسود کے اناج کے معاہدے میں شرکت کو معطل کرنے کا فیصلہ ’ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ روسی فیڈریشن کے ساتھ مذاکرات وقت کا ضیاع ہے۔‘

یوکرین کے صدارتی مشیر میخائیلو پوڈولیاک نے ٹویٹ میں لکھا: ’’پیوٹن نے خوراک، سردی اور اشیا کی قیمتوں کو دنیا کے خلاف ہتھیاروں میں تبدیل کر دیا ہے، روس یورپ کے خلاف ہائبرڈ جنگ لڑ رہا ہے، اور افریقہ اور مشرق وسطیٰ کو یرغمال بنا رہا ہے۔‘‘

Comments

یہ بھی پڑھیں