The news is by your side.

Advertisement

روس میں سائبر سیکیورٹی بل کے خلاف ہزاروں شہریوں کا احتجاج

ماسکو : روس میں انٹرنیٹ پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کے خلاف ہزاروں کی تعداد میں شہریوں نے حکومت کے غیر منصفانہ اقدامات کی مخالفت میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔

تفصیلات کے مطابق روسی پارلیمنٹ میں گزشتہ روز سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے ایک بل پیش ہوا جس میں روسی صارفی کو غیر ملکی سرورز تک موڑنے سے روکنا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ بل کے خلاف روس کے دارالحکومت ماسکو میں تقریباً 15 ہزار سے زائد افراد نے مظاہرہ کیا جبکہ دیگر شہروں میں بھی ہزاروں افراد نے مظاہرہ کیا۔

روسی صدر کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ولادی میر پیوٹن نے انٹرنیٹ پر موجود مواد کو قابو کرنے کےلیے مذکورہ اقدام اٹھایا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ ناقدین کا خیال ہے کہ روسی حکام انٹرنیٹ پکو مکمل سینسر شپ کے ذریعے دنیا سے کاٹنا چاہتے ہیں۔

روسی پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے بل کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین ’کوئی تنہائی نہیں چاہیئے‘ اور انٹرنیٹ پر پابندی نامنظور‘ کے نعرے لگارہے تھے۔

احتجاج میں شریک مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت شہریوں کی آزادی کو صلب کرنے یا محدود کرنے کی کوشش کررہی ہے اور آزادی میں انٹرنیٹ بھی شامل ہے۔

ریلی میں موجود ایک شخص نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ’میں نے ایک ٹویٹ کیا تھا جس پر میں مجھے گرفتار کرکے ایک ماہ کےلیے جیل میں قید کردیا گیا تھا‘۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس روس میں ٹیلی گرام پر پابندی عائد کردی گئی تھی جسکے بعد شہریوں نے ٹیلی گرام کی مسیجنگ ایپ کی بحالی کےلیے بھی احتجاج کیا تھا۔

خبر رساں ادارے کے مطابق کہ روسی خفیہ ایجنسی ایف ایس بی کا کہنا ہے کہ ’ٹیلی گرام روس میں عالمی دہشت گردوں کی پسندیدہ مسیجنگ سروس ہے‘۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں