روسی تاریخ کی سب سے بڑی جنگی مشقوں کا آغاز، 3 لاکھ سے زائد فوجی شریک russia war games
The news is by your side.

Advertisement

روسی تاریخ کی سب سے بڑی جنگی مشقوں کا آغاز، 3 لاکھ سے زائد فوجی شریک

ماسکو: روس میں تاریخ کی سب سے بڑی جنگی مشقیں جاری ہیں جس میں تین لاکھ سے زائد فوجی شریک ہیں۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق روس نے سائبریا میں اپنی تاریخ کی سب سے بڑی جنگی مشقوں کا آغاز کردیا ہے جس میں تین لاکھ سے زائد فوجی اہلکار ہزاروں کی تعداد میں ٹینکوں اور سیکڑوں جنگی جہازوں کے ساتھ میدان میں اترے ہیں۔

سرد جنگ کے بعد روس نے چینی سرحد کے قریب اب تک کی سب سے بڑی جنگی مشقیں شروع کی ہیں، بڑے پیمانے پر ان جنگی مشقوں کو ’واسٹاک 2018‘ کا نام دیا گیا ہے، چین کے تین ہزار سے زائد فوجی بھی بکتر بند گاڑیوں اور جہازوں کے ساتھ مشقوں میں شریک ہیں۔

جنگی مشقوں میں منگولیا کے چند فوجی دستے بھی حصہ لے رہے ہیں، ایک ہفتے جاری رہنے والی یہ مشقیں ایسے وقت کی جارہی ہیں جب روس اور نیٹو اتحاد کے ملکوں میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔

روسی وزیر دفاع سرگوئے شوئگے کا کہنا ہے کہ تین لاکھ فوجی، 36 ہزار فوجی گاڑیاں، ایک ہزار جہاز اور 80 جنگی بیڑے مشقوں کا حصہ ہوں گے، اس کا مقصد کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا ہے۔

یاد رہے کہ روس نے اس سے قبل ‘واسٹاک 2014‘ کے نام سے فوجی مشقیں کی تھیں جس میں ایک لاکھ 55 ہزار اہلکاروں نے شرکت کی تھی۔

خیال رہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر روس نے آخری مرتبہ سرد جنگ کے دور میں 1981 میں زی پاڈ 81 کے نام سے جنگی مشقوں کا انعقاد کیا تھا جو سوویت دور کی سب سے بڑی جنگی مشق تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں