ماسکو (19 فروری 2026): روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے امریکا کو ایران پر کسی بھی نئے حملے کے خلاف سخت خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی کارروائی کے نتائج انتہائی خطرناک ہوں گے۔
سعودی عرب کے نیوز چینل ‘العربیہ’ کو انٹرویو دیتے ہوئے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے تمام فریقین پر زور دیا کہ ایران کے پرامن جوہری پروگرام کا حل نکالنے کے لیے تحمل کا مظاہرہ کیا جائے۔
سرگئی لاوروف نے کہا کہ ماضی میں ایران کی ان جوہری تنصیبات پر حملے ہو چکے ہیں جو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے کنٹرول میں تھیں، ان کا کہنا تھا کہ ہمارے اندازے کے مطابق ان حملوں سے جوہری حادثے کے حقیقی خطرات پیدا ہوئے تھے۔
سرگئی لاوروف نے واضح کیا کہ روس ایرانی قیادت کے ساتھ باقاعدہ رابطے میں ہے اور اسے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی بنیاد پر اس مسئلے کا حل چاہتا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایران کے قانونی حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے خالصتاً پرامن جوہری افزودگی کے پروگرام کی ضمانت دی جائے۔
اس سے قبل امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی فوج اس ہفتے کے آخر تک ایران پر حملے کے لیے تیار ہے, غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر حملے کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا۔
امریکا رواں ہفتے کے آخر تک ایران پر حملہ کرسکتا ہے، امریکی میڈیا کا دعویٰ
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


