The news is by your side.

Advertisement

روس کے صدارتی الیکشن، پیوٹن کا پلڑا چوتھی بار پھر بھاری

ماسکو: روس میں نئے صدر کے انتخاب کے لیے پولنگ کا عمل اختتام پذیرہوگیا، صدر ولادی میر پیوٹن کے چوتھی بار ملک کے سربراہ منتخب ہونے کے قوی امکانات ہیں۔

تفصیلات کے مطابق روس میں صدارتی انتخاب کے لیے صبح 8 بجے شروع ہونے والی پولنگ کا سلسلہ اختتام ہوگیا ہے، کچھ دیر بعد روس کے نئے صدر کا اعلان کیا جائے گا، صدر ولادی میر پیوٹن کے چوتھی بار ملک کے سربراہ منتخب ہونے کے قوی امکانات ہیں۔

صدارتی انتخاب کے لئے ووٹنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا تھا جو رات 8 بجے تک جاری رہا، روس کے صدارتی انتخابات میں صدر پیوٹن کے انتخاب میں 7 امیدواروں نے الیکشن لڑا ۔

صدارتی انتخاب میں روس کی ایک ارب سے زائد افراد نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا، ووٹنگ کے دوران ووٹر ٹرن آؤٹ 70 فیصد تک رہنے کی توقع تھی جبکہ صدر پیوٹن نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ایک مرتبہ پھر روس کی عظیم سلطنت کے سربراہ منتخب ہوجائیں گے، کیوں کہ عوام مجھے ہی ’صدر کے فرائض انجام دینے کا حق دیں گے‘۔

صدر ولادی میر پیوٹن کے مقابلے میں روس کے ارب پتی کمیونسٹ پاول گرودین، سابق ٹی وی انکر کسنیا شُبچک اور وٹیرین قوم پرست ولادی زیرینفسکی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ روس کے اہم اپوزیشن لیڈر الیکسی نوالنی کو دھوکہ دہی کے الزام کے باعث الیکشن میں حصّہ نہیں لینے دیا گیا، الیکسی نے عوام نے درخواست کی تھی کہ وہ اس الیکشن کا بائیکاٹ کردیں اور انہوں نے مبینہ طور پرپولنگ اسٹیشنز پر ہزاروں افراد بھی بھیجے تھے تاکہ الیکشن کے دوران انتشار پھیلایا جاسکے۔

واضح رہے کہ 65 سالہ ولادی میر پیوٹن 1999 سے وزیر اعظم اور صدر کی حثیثت سے روس کی سربراہی کررہے ہیں۔

پندرہ سو سے زائد عالمی مبصرین اور ہزاروں مقامی مبصرین صدارتی انتخاب کے لئے ووٹنگ کو بہت قریب سے دیکھ رہے ہیں جب کہ حکومت کی جانب سے صدارتی انتخاب کو شفاف بنانے کے لئے دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں