بدھ, مئی 20, 2026
اشتہار

روسی ادارے روساٹم کا ایران کے افزودہ یورینیم سے متعلق اہم بیان

اشتہار

حیرت انگیز

ماسکو (19 اپریل 2026): روس نے کہا ہے کہ وہ ایران سے افزودہ یورینیم کی منتقلی میں مدد کے لیے تیار ہے۔

روسی ریاستی جوہری توانائی ادارے روساٹم کے سربراہ الیکسی لیکاچیف کے مطابق روس اس بات پر غور کر رہا ہے کہ وہ ایران سے افزودہ یورینیم کی منتقلی میں کردار ادا کر سکتا ہے۔

یہ بیان روساٹم کی صنعتی اشاعت ’اسٹرانا روساٹم‘ کے ٹیلی گرام چینل پر شائع ہوا ہے، الیکسی لیکاچیف نے کہا کہ اس معاملے میں تکنیکی مسائل کے ساتھ ساتھ امریکا اور ایران کے درمیان اعتماد کا فقدان بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

انھوں نے کہا ’’اس حوالے سے روس کو ایرانی فریق کے ساتھ تعاون کا مثبت تجربہ حاصل ہے، 2015 میں ایران کی درخواست پر روس نے پہلے ہی افزودہ یورینیم کی منتقلی میں مدد کی تھی، اور اب بھی ہم اس کے لیے تیار ہیں۔‘‘


ایران نے افزودہ یورینیم کی امریکا منتقلی سے صاف انکار کر دیا


دوسری جانب دو روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ ایک نیا معاہدہ ’بہت قریب‘ ہے اور تہران تقریباً 440 کلو گرام انتہائی افزودہ یورینیم فراہم کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے، تاہم ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔

ادھر مارچ کے آغاز میں روساٹم نے ایران کے بوشہر نیو کلیئر پاور پلانٹ سے اپنے عملے کو واپس بلانا شروع کر دیا تھا، جب کہ وہاں جاری تعمیراتی کام بھی روک دیا گیا تھا۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں