The news is by your side.

Advertisement

“شاید شام بطور ریاست قائم نہ رہے”: روس نے اندیشہ ظاہر کردیا

ماسکو: روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریبکوف نے کہا ہے کہ شام کا مسئلہ انتہائی سنگین ہے، اور ہم یہ نہیں جانتے کہ شام بطور ریاست قائم رہے گا یا نہیں، خطے کی صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے روس کے خبر رساں ایجنسی کا انٹریو دیتے ہوئے کیا، نائب وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ شام کی سرزمین کی وحدت برقرار رہنے سے متعلق کیا پیش رفت سامنے آئی اس کا علم نہیں، شام کی صورت حال کا بھرپور جائزہ لے رہے ہیں۔

سرگئی ریبکوف کا شام کی کشیدہ صورت حال اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے روسی صدر کی ملاقات سے متعلق کہنا تھا امریکا کی جانب سے روسی صدر ولادی میرپیوٹن کو دورے کی دعوت دی گئی ہے، شام کی صورت حال پر موثر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

امریکی میزائل گرانےکےروسی دعوے میں کوئی حقیقت نہیں‘ ڈانا وائٹ

خیال رہے کہ شام کے سلسلے میں امریکا اور روس کے مابین کشمکش کے حوالے سے عالمی تجزیہ نگار اس بات کی نشان دہی کرچکے ہیں کہ امریکا اور اتحادیوں کے حملوں میں احتیاط سے کام لیا جاتا ہے تا کہ روسی فوج کا جانی نقصان نہ ہو۔

روسی صدر، ٹرمپ کی دعوت پر وائٹ ہاؤس جائیں گے

یاد رہے کہ گذشتہ روز روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے مقامی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ روسی صدر ولادی میر پیوٹن ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر امریکا جائیں گے، انہوں نے اس دورے سے متعلق تصدیق کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ دونوں ملکوں کے صدور نے ایک دوسرے کے خلاف فوجی تصادم کے مرحلے کی طرف نہ جانے پر سو فی صد اتفاق کرلیا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں