The news is by your side.

روس کا یوکرائنی جنگی جہازوں و کشتی پر قبضہ، حالات کشیدہ

ماسکو : روس کی جانب سے یوکرائنی بحریہ کے دو جنگی کشتیوں سمیت تین جہازوں پر قبضے نے دونوں ممالک کے درمیان ایک مرتبہ پھر کشیدگی پیدا کردی ہے۔

تفصیلات کے مطابق روس اور یوکرائن کے درمیان کچھ برسوں سے جاری کشیدگی میں مزید اضافہ اس قت ہوا جب روسی افواج نے یوکرائنی بحری جہازوں پر سمندری حدود کی خلاف کا الزام عائد کرتے ہوئے قبضہ کرلیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز پیش آنے والے واقعے میں یوکرائنی بحریہ کا کشتیوں اور جہازوں پر موجود عملہ بھی شدید زخمی ہوا ہے۔

برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے ایک دوسرے پر واقعے کی ذمہ دار عائد کررہے ہیں جبکہ دوسری جانب پیر کے روز یوکرائنی اراکین پارلیمنٹ اس واقعے کے ذیل میں ملک میں مارشل لاء کے نفاذ کے لیے ووٹنگ کریں گے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ روسی فوج نے سمندری حدود کی خلاف ورزی کرنے پر بحرہ اسود اور بحرہ آزوو ملانے والے آبنائے کرچ پر قائم پل کے نیچے بحری ٹینکر کھڑا کرکے یوکرائنی بحریہ کا راستہ بلاک کردیا تھا۔

برطانوی میڈیا کے مطابق یوکرائنی صدر نے یوکرائنی قیادتوں سے ملاقات کے دوران روسی افواج کے مذکورہ اقدام کو دیوانہ پن اور اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز یوکرائنی بحریہ دو جنگی جہاز اور ایک کشتی بحرہ اسود سے بحرہ آزوو قائم بندرگاہ ماریوپول تک جارہے تھے کہ راستے میں روسی افواج نے راستہ روک پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں عملہ بھی زخمی ہوا۔

روسی حکام کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ یوکرائنی بحریہ نے سمندری حدود کی خلاف ورزی کی تھی اس لیے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر یوکرائنی جہازوں کا رستہ روکا تھا۔

یوکرائنی بحریہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ روسی فوج کے حملے میں عملے کے 6 افراد بھی زخمی ہوئے ہیں جس کی روس نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ افواج نے حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں یوکرائنی بحریہ کے 3 افراد زخمی ہوئے تھے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرائن کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ بحری جہاز اور کشتیوں کی آمد و رفت سے متعلق روسی حکام کو قبل از وقت آگاہ کیا گیا تھا۔

یوکرائنی شہریوں کی جانب سے جنگی جہازوں اور کشتی پر روسی قبضے کی خبر پھیلنے کے بعد یوکرائنی دارالحکومت میں قائم روسی سفارت خانے کے باہر شدید احتجاج کیا گیا اور اس دوران مظاہرین نے مشعلیں سفارت خانے کے اندر پھینکی جس کے نتیجے میں سفارت خانے کی ایک گاڑی نذر آتش ہوگئی۔

دوسری جانب اقوام متحدہ متحدہ کے سلامتی کونسل نے روسی اقدامات کے باعث ہنگامی اجلاس کا انعقاد کیا ہے تاکہ روس یوکرائن کے درمیان حالیہ کشیدگی کو کم یا ختم کیا جاسکے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں