The news is by your side.

Advertisement

روس نے بھی افغان طالبان کی حکومت کو قبول کرنے کا اشارہ دے دیا

ماسکو: روس نے بھی افغان طالبان کی حکومت کو قبول کرنے کا اشارہ دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق روسی صدر ولادی میر پیوٹن کا کہنا ہے کہ افغانستان کے بیش تر علاقے طالبان کے کنٹرول میں ہیں اور یہ ایک سیاسی حقیقت ہے۔

روسی صدر نے کہا کہ طالبان سیاسی حقیقت ہیں، امید ہے طالبان قیام امن کا وعدہ پورا کریں گے، دیگر ممالک اپنی اقدار افغانستان پر مسلط کرنے کی کوشش نہ کریں۔

انھوں نے توقع ظاہر کی کہ طالبان افغانستان میں امن کے وعدوں کی تکمیل کریں گے، پیوٹن نے جرمن چانسلر انجیلا مرکل سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت اہم ہے کہ افغانستان سے دیگر ممالک میں دہشت گردوں کو داخل ہونے سے روکا جائے اور اس بات کا خیال رکھا جائے کہ مہاجرین کے لباس میں دہشت گرد دیگر ممالک میں داخل نہ ہونے پائیں۔

وطن چھوڑ کر جانے والے افغانوں کے لیے روس کی پیش کش

واضح رہے کہ افغان مفاہمتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ کی حامد کرزئی کے ہمراہ کابل میں طالبان کے قائم مقام گورنر عبدالرحمٰن منصور سے اہم ملاقات ہوئی ہے۔

عبداللہ عبداللہ نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ ملاقات میں سیکیورٹی اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا، کابل میں زندگی معمول پر لانے کے لیے ضروری ہے کہ شہری محفوظ محسوس کریں، گورنر عبدالرحمٰن منصور نے یقین دہانی کرائی کہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں