The news is by your side.

Advertisement

کورونا ویکسین، امریکا کے بعد روس کا بھی بڑا دعویٰ

امریکی صدر کی جانب سے کورونا ویکسین کی تیاری سے متعلق دعوے کے بعد روس نے بھی اپنی تیار کر دہ ویکسین کے حوالے سے بڑا دعویٰ کر دیا۔

روس نے بھی اپنی بنائی گئی کورونا ویکسین کے 90 فیصدسے زیادہ مؤثر ہونےکا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ کورونا ویکسین اسپوتنک فائیو 90 فیصد سےزیادہ مؤثرہے۔

یہ بیان امریکی صدر کے اعلان کے کچھ دیر بعد ہی سامنے آیا ہے۔ روسی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ملکی سطح پر تیاری کی گئی ویکسین کے نتائج 90 فیصد سے زیادہ مثبت آئے ہیں۔

After Pfizer, Russia claims Sputnik V Covid-19 vaccine over 90% effective |  Deccan Herald

وزارت صحت کے ماتحت ایک تحقیقی انسٹی ٹیوٹ کی ڈائریکٹر اوکسانہ ڈراپکینا نے بیان میں کہا ہے کہ ہم شہریوں میں ‘اسپوتنک وی’ ویکسین کے مؤثر ہونے کی نگرانی کے ذمہ دار ہیں جنھیں یہ بڑے پیمانے پر ویکسینیشن پروگرام کے حصے کے طور پر دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک اور مؤ ثر ویکسین آئی ہے جو ہر ایک کے لئے خوشخبری ہے لیکن ہمارے مشاہدات کی بنیاد پر’اسپوتنک وی’ کے نتائج بھی 90 فیصدے سے زیادہ ہیں۔

دنیا کے لیے بڑی خبر، ڈونلڈٹرمپ کا اہم اعلان

ڈونلڈٹرمپ نے ٹوئٹ میں لکھا کہ کوروناسےبچاؤکی ویکسین کی کامیابی دنیاکیلئےبڑی خبرہے، کوروناسےبچاؤکی نئی آنےوالی ویکسین کے 90 فیصد مثبت نتائج آئے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے لکھا کہ اسٹاک مارکیٹ میں آج بہت تیزی آئی ہے۔

امریکی فارما کمپنی فائزر نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کورونا ویکسین کے فیزتھری کا کامیاب تجربہ کیا ہے جس کے90فیصد مؤثر نتائج سامنے آئے ہیں۔

اس حوالے سے سی ای او امریکی فارما کمپنی فائزر البرٹ برلا کا کہنا ہے کہ آج انسانی تاریخ اور سائنس کیلئے بہت بڑا دن ہے۔فارما کمپنی فائزر کے کورونا ویکسین کے فیزتھری میں90فیصد مؤثر نتائج آئے ہیں، فائزر جرمنی کی کمپنی بائیواینٹیک کےساتھ مل کر کورونا ویکسین کی تیاری میں مصروف عمل ہے۔

تاریخی دن : امریکی کورونا ویکسین کے مثبت نتائج آنا شروع

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ امریکا کی دواساز کمپنی فائزر کے سی ای اوالبرٹ برلا نے کہا تھا کہ اکتوبر کے آخر تک پتہ چل جائے گا کہ ویکسین مؤثر ہے یا نہیں اور اگر یہ مؤثر ثابت ہوتی ہے تو دسمبر تک یہ امریکہ میں تقسیم ہوسکتی ہے۔

البرٹ بورلا کا کہنا تھا کہ ویکسین کا محفوظ اور مؤثر ہونا ضروری ہے، اور اس کی تیاری مستقل بنیادوں پر اعلیٰ ترین معیارات کے۔تحت ہونی چاہیے، ہم رواں ماہ کے آخر تک جان سکیں گے کہ آیا یہ ویکسین مؤثر ہے یا نہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں