The news is by your side.

Advertisement

روس کا طالبان سے متعلق مغربی دنیا سے بڑا مطالبہ

ماسکو: روس نے کہا ہے کہ افغانستان کے فنڈز روکنا اشتعال انگیزی ہے، مغربی دنیا طالبان سے روابط بحال کرے۔

تفصیلات کے مطابق افغانستان کے لیے روسی صدارتی نمائندہ ضمیر کابلوف نے میڈیا سے گفتگو میں خبردار کیا کہ اس بات کا خطرہ ہے کہ افغانستان منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گردی کی طرف نہ چلا جائے۔

انھوں نے مغربی ممالک پر زور دیا کہ وہ طالبان کے ساتھ رابطہ کریں، اور یورپی یونین افغانستان میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولے۔

ضمیر کابلوف نے کہا کہ یورپی یونین افغانستان میں اپنا مشن دوبارہ کھولے، یورپی شراکت داروں کو افغانستان نہیں چھوڑنا چاہیے تھا، یہی وقت تھا جب یورپی سفارت کار افغانستان میں واپس آتے۔

انھوں نے مغربی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ افغانستان میں انتشار سے بچنے کے لیے طالبان کے ساتھ رابطے میں رہیں اور خبردار کیا کہ امداد میں کمی کی کوششیں ’غلط نتائج کی حامل‘ ہوں گی۔

کابلوف نے نیٹو افواج کے پیچھے چھوڑے گئے ’بھاری مقدار میں ہتھیاروں‘ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ افغانستان میں لوگ زندہ رہنے کی کوشش میں منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ اور دہشت گردی کا سہارا لے سکتے ہیں۔

انھوں نے افغانستان کے لیے فنڈنگ ​​پر پابندی ہٹانے کے لیے روس کے مطالبات کو بھی دہرایا، اور کہا کہ یہ بالکل اشتعال انگیز ہے، کہ وہ کس کو سزا دے رہے ہیں، افغان حکام کو یا وہاں کے لوگوں کو؟ پیسے افغان عوام کو واپس کرنے چاہئیں۔

یاد رہے کہ روس نے گزشتہ ہفتے طالبان حکومت کے ارکان کی بین الاقوامی مذاکرات کے لیے میزبانی کی تھی، ان مذاکرات کے دوران طالبان نے علاقائی سلامتی پر روس، چین اور ایران کے ساتھ مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں