The news is by your side.

روسی عدالت نے ٹیلیگرام میسنجر پر پابندی عائد کردی

ماسکو: روسی عدالت نے میسجنگ سروس ٹیلی گرام میسنجر کو روس میں بند کرنے کا حکم جاری کردیا۔ ٹیلی گرام میسنجر نے روس کے خفیہ سیکیورٹی اداروں کو صارفین کے پیغامات تک رسائی دینے سے انکار کیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق روس کے میڈیا ریگولیٹری نے عدالت میں درخواست دائر کر رکھی تھی کہ عالمی دہشت گرد تنظیمیں روس میں اپنا نیٹ ورک چلانے کے لیے میسجنگ سروس ٹیلی گرام میسنجر کو استعمال کررہی ہیں، اس لیے مذکورہ ایپ کی سروسز کو روس میں فوری طور پر بند کیا جائے۔

روسی خبر رساں اداروں کے مطابق روسی میڈیا ریگولیٹری نے دہشت گردوں پر نظر رکھنے کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے ٹیلیگرام میسنجرسروس کی انتظامیہ سے صارفین کے پیغامات رسائی کا مطالبہ کیا تھا، جسے کمپنی نے مسترد کردیا تھا۔

ٹیلیگرام انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ کمپنی نے ایسی سروس بنائی ہے جس کے ذریعے صارفین کے پیغامات تک کوئی رسائی حاصل نہیں کرسکتا ہے۔ مذکورہ سوشل میڈیا سروس کو صارفین کے پیغامات تک رسائی کے لیے 4 اپریل تک کی مہلت دی گئی تھی۔

روس کی سرکاری خفیہ ایجنسی ایف ایس بی کا کہنا تھا کہ ٹیلیگرام میسنجر سروس ملک میں شدت پسند کارروائیوں کے لیے ’عالمی دہشت گرد تنظیموں‘ کی مقبول ترین سروس ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ سال اپریل میں زیر زمین قائم ریلوے اسٹیشن پر خودکش حملہ جس میں 15 افراد ہلاک ہوئے تھے، میں حملہ آور نے مذکورہ سروس کے ذریعے ہی اپنے دیگر ساتھیوں سے رابطہ کیا تھا۔

عدالت کے سامنے میڈیا ریگولیٹری کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’ٹیلیگرام انتظامیہ صارفین کی معلومات کے حوالے سے قانونی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے، لہذا اس پر پابندی عائد کی جائے‘۔

دوسری جانب عدالت میں ٹیلی گرام میسجنگ سروسز کے وکیل نے حکام کا روس میں ٹیلی گرام کی اپلیکیشن کو روکنا ’بے بنیاد‘ قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ روسی خفیہ ایجنسی ایف ایس بی کی صارفین کے ذاتی پیغامات رسائی کےلیے پیش کی گئی ضروریات ’غیر قانونی اور ہیں، کمپنی قانونی اور تکنیکی طور ان مطالبات کو پورا نہیں کرسکتی۔

واضح رہے کہ روس سمیت مشرق وسطیٰ اور دنیا کے دیگر کئی ممالک کی عوام ٹیلی گرام کا استعمال کرتے ہیں، وکیل کا کہنا تھا کہ ٹیلیگرام کے دوارب سے زائد صارفین ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق روس کے اعلیٰ عہدیداران بھی بڑے پیمانے پر ٹیلیگرام میسنجر کی سروسز استعمال کرتے ہیں۔

ٹیلیگرام کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس کی شہرت میں اس لیے بھی اضافہ ہوا ہے کیوں کہ کمپنی نے ایسا سسٹم بنایا ہے، جس میں صارفین کی ذاتی معلومات اور پیغامات تک غیر متعلقہ افراد رسائی حاصل نہیں کرسکتے۔

مذکورہ میسجنگ سروس کے ذریعے صارف 5000 افراد پر مشتمل گروپ کو ایک ساتھ پیغام، دستاویزات، تصاویر اور ویڈیوز بھیج سکتا ہے، جس میں کوئی غیر متعلقہ فرد رد و بدل بھی نہین کرسکتا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ شام و عراق میں دہشت گردانہ کارروائیوں سرگرم عالمی دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ اور اس کے حامی بھی ٹیلی گرام کا استعمال کررہے تھے، لیکن کمپنی نے داعش کی ترویج کرنے والے پلیٹ فارم کو بند کردیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں