The news is by your side.

Advertisement

روس 45 برسوں میں پہلی بار چاند کی کھوج دوبارہ شروع کر رہا ہے

ماسکو: رواں برس خلائی سائنس کے بڑے منصوبے شروع کرتے ہوئے روس برسوں بعد چاند کی کھوج دوبارہ شروع کر رہا ہے، قومی خلائی ادارے کے چیف نے کہا ہے کہ روس 45 برسوں میں پہلی بار چاند کی کھوج دوبارہ شروع کرنے جا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق روس رواں برس 2021 میں خلائی سائنس میں بڑے منصوبے رکھتا ہے، روس کی جانب سے 29 راکٹ خلا میں چھوڑے جائیں گے۔

اس سلسلے میں روسی خلائی سرگرمیوں کے لیے قائم روسکوسموس (Roscosmos) کارپوریشن کے سی ای او دمتری روگوزین نے روسی صدر ولادی میر پیوٹن کو ہفتے کو بتایا کہ ٹائم ٹیبل کے مطابق روس 2021 میں 29 خلائی راکٹ چھوڑے گا۔

روسی قومی خلائی ایجنسی کے چیف کا کہنا تھا کہ 2020 میں 17 خلائی راکٹ چھوڑے گئے تھے اور 7 فوجی میزائل لانچ کیے گئے تھے۔

روگوزین نے کہا کہ رواں برس ہم نے بہت اہم منصوبوں پر عمل درآمد کرنا ہے، 45 برسوں میں پہلی بار ہم چاند کی چھان بین دوبارہ شروع کریں گے۔

روسی کمپنی کلاشنکوف کا جدید ترین سب مشین گنز کی فراہمی کا اعلان

انھوں نے بتایا کہ اکتوبر میں اسپیس پورٹ ’ووستوچنی‘ سے گرنے والے ماڈیول (خلائی جہاز سے الگ ہونے والا حصے) کو لانچ کیا جائے گا، اس کے بعد چاند کی خود کار کھوج شروع کی جائے گی، اور پھر آدمی بردار پروگرام شروع کیا جائے گا۔

روگوزین کا کہنا تھا دو ماڈیولز انٹرنیشنل اسپیس سینٹر (آئی ایس ایس) بھیجے جائیں گے، دونوں جنوبی قازقستان میں قائم اسپیس پورٹ بیکانور پر پہلے سے موجود ہیں، اور ان کے الیکٹرک ٹیسٹ مکمل ہونے جا رہے ہیں، سب سے بڑا ماڈیول نوکا (Nauka) مئی میں لانچ کیا جائے گا، جب کہ انگارہ (Angara) نامی خلائی راکٹ کے ٹیسٹ کا عمل اس دوران جاری رہے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں