اتوار, مئی 10, 2026
اشتہار

روس نے ایران کو افزودہ یورینیم اپنے پاس رکھنے کی دوبارہ پیش کش کر دی

اشتہار

حیرت انگیز

ماسکو (14 اپریل 2026): روس نے ایران کو افزودہ یورینیم اپنے پاس رکھنے کی دوبارہ پیش کش کر دی ہے، کریملن نے بھی تصدیق کر دی، ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ یہ پیش کش تاحال قبول نہیں کی گئی ہے۔

ترکیہ ٹوڈے کے مطابق روس نے کہا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ کسی مستقبل کے امن معاہدے کے حصے کے طور پر ایران کے افزودہ یورینیم کو اپنے پاس رکھنے کے لیے تیار ہے۔ کریملن کے مطابق یہ تجویز پہلے ہی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے امریکا اور خطے کے ممالک کے ساتھ رابطوں میں پیش کی جا چکی ہے۔

کریملن نے کہا کہ یہ پیش کش اب بھی موجود ہے لیکن اس پر تاحال کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوئی، دمتری پیسکوف نے پیر کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اے ایف پی کے سوال پر کہا ’’یہ تجویز صدر پیوٹن نے امریکا اور علاقائی ممالک دونوں کے ساتھ رابطوں میں پیش کی تھی۔ یہ پی شکش اب بھی برقرار ہے لیکن اس پر عمل نہیں کیا گیا۔‘‘

اسلام آباد میں ایران کے ساتھ بات چیت میں سب کچھ خراب نہیں ہوا، جے ڈی وینس کا اعتراف

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ مذاکرات میں کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا، جس سے جنگ کے جلد خاتمے کی امیدیں کمزور ہو گئی ہیں۔ یہ جنگ فروری کے آخر سے جاری ہے اور اس میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ عالمی معیشت بھی متاثر ہوئی ہے۔

روس، جو دنیا کے سب سے بڑے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کا مالک ہے، پہلے بھی متعدد بار پیش کش کر چکا ہے کہ وہ کسی بھی مستقبل کے معاہدے کے تحت ایران کے افزودہ یورینیم کو اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔ پیر کو کریملن نے کہا کہ اس موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور حالیہ مذاکرات کے نتائج کے باوجود یہ تجویز بدستور موجود ہے۔


آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی سے متعلق تازہ ترین صورت حال


پیسکوف کے مطابق ماسکو اب بھی سمجھتا ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کی منتقلی تہران اور واشنگٹن کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے کا حصہ بن سکتی ہے۔

دریں اثنا، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے رابطہ کیا ہے، جس میں وزیر خارجہ نے کہا ہم نے خطے کی تازہ ترین صورت حال اور اسلام آباد مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا۔ عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز میں امریکی اقدامات کے سنگین نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا خلیج فارس میں امریکی اشتعال انگیزی کے نتائج خطرناک ہوں گے۔ جب کہ روسی وزیر خارجہ نے ایران کے خلاف جارحیت کی مذمت کی اور ملک کے اصولی مؤقف کی توثیق کی۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں