The news is by your side.

Advertisement

روس یوکرین جنگ، جرمنی کیلیے خطرے کی گھنٹی بج گئی

روس یوکرین کے تنازع کے سبب روس سے گیس فراہمی کی بندش کے نتیجے میں جرمنی کو آئندہ سردیوں میں ملک کیلیے گیس دستیاب نہیں ہوگی۔

جرمنی کے وائس چانسلر رابرٹ ہیبیک نے کہا ہے کہ اگلے موسم سرما میں ان کے ملک کو گیس کی فراہمی ابھی تک یقینی نہیں ہے۔ رابرٹ ہیبیک جو معیشت اور آب و ہوا کے وزیر کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے ہیں، نے ڈومینو اثر ہونے کو مسترد نہیں کیا ہے، جس میں گیس سپلائی فراہمی کو دھچکا لگا ہے جس کی وجہ سے دیگر تنصیبات میں بھی بحرانی کیفیت شروع ہو سکتی ہے۔

جرمن چانسلر مقامی ریڈیو اسٹیشن کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہمیں مزید گیس کی سپلائی نہیں ملتی ہے اور روس سے بھی ترسیل بند کر دی جاتی ہے یا روک دی جاتی ہے، تو ہمارے پاس اپنے تمام گھروں کو گرم رکھنے اور صنعت کو چلانے کے لیے کوئی متبادل بندوبست نہیں ہوگا۔

یہ انتباہ ان کے خلیج فارس کے دورے سے پہلے آیا ہے، جو آئندہ ہفتے شروع ہو رہا ہے اور اس دورے کے دوران جرمن چانسلر نے ہیبیک نے امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور دیگر سرکاری حکام سے ملاقاتیں کرنا ہیں جبکہ پیر کو ان کی متحدہ عرب امارات کے وزراء کے ساتھ بات چیت میں شرکت متوقع ہے۔ یہ دورہ جرمنی کی گیس کی درآمدات کو متنوع بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے کیونکہ وہ یوکرین کے ساتھ تنازع میں تازہ ترین اضافے کے تناظر میں روس پر اپنا انحصار کم کرنا چاہتا ہے۔ اس ہفتے کے شروع میں ہیبیک نے اسی مشن پر ناروے کا سفر بھی کیا تھا۔

یاد رہے کہ قطر مائع قدرتی گیس کے دنیا کے سب سے بڑے برآمد کنندگان میں سے ایک ہے۔

مزید پڑھیں: روس کا یورپ کو سخت ردعمل دینے کا اعلان

واضح رہے کہ روس کے یوکرین پر حملے کے بعد یورپ کیجانب سے روس پر پابندیاں عائد کرنے کے اعلان پر روس نے دھکمی دی تھی کہ اگر اس کے تیل کی برآمد پر پابندی عائد کی گئی تو وہ جواباْ جرمنی جانے والی گیس کی مین پائپ لائن کو بند کرسکتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں