The news is by your side.

Advertisement

’یوکرین نے ہتھیار ڈالنے والے فوجیوں کو گولی مارنے کا حکم دیا‘

ماسکو: روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یوکرین نے روسی فوج کے سامنے ہتھیار ڈالنے والے فوجیوں کو گولی مارنے کا حکم جاری کیا۔

روسی وزارت دفاع کے نمائندے ایگور کوناشینکوف نے ایک بریفنگ میں کہا کہ ایزوسٹال میٹالرجیکل پلانٹ میں محصور یوکرینی فوجیوں کو ہتھیار ڈالنے کی پیش کش کی گئی تھی، لیکن کیف حکومت نے ہتھیار ڈالنے پر مذاکرات سے منع کر دیا۔

انھوں نے کہا یوکرینی فوجیوں اور غیر ملکی کرائے کے فوجیوں کو حکم دیا گیا کہ جو بھی یوکرینی فوجی ہتھیار ڈالنا چاہتا ہے اسے گولی مار دی جائے۔

روسی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس وقت لوہے کے کارخانے میں 400 کے قریب غیر ملکی فوجی ہیں، جن میں سے زیادہ تر یورپی ممالک کے شہری اور کینیڈا کے شہری بھی ہیں۔

ایک دن قبل یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا تھا کہ یوکرین کی فوج اور قوم پرست تنظیموں کو ماریوپول میں ختم کرنے کی صورت میں، کیف ماسکو کے ساتھ مذاکرات روک دے گا۔

روسی وزارت دفاع کے مطابق لڑائی کے نتیجے میں غیر ملکی فوجیوں کی تعداد میں مسلسل کمی آ رہی ہے اور آج یہ تعداد 4,877 ہے، مجموعی طور پر روسی فوج نے یوکرین میں 1,035 کرائے کے فوجیوں کو ختم کیا جب کہ 912 نے لڑنے سے انکار کیا اور ملک سے فرار ہو گئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں