The news is by your side.

Advertisement

روس نے گوادر پورٹ استعمال کرنے کی اجازت مانگ لی

اسلام آباد: روس نے گوادر کی بندرگاہ سے عالمی تجارت کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے جس کے لیے روسی حکام نے پاکستانی حکومت کو گرم پانی تک رسائی کی باقاعدہ درخواست دے دی۔

تفصیلات کے مطابق گوادر بندرگاہ کے افتتاح کے بعد روس کے حکام پورٹ کو عالمی تجارت کے لیے استعمال کرنے اور سی پیک میں شمولیت کے خواہش مند ہیں جس کے لیے انہوں نے پاکستانی حکومت کو باقاعدہ درخواست دے دی ہے۔

پاکستانی حکام نے روس کی درخواست موصول ہونے کی باضابطہ تصدیق کردی۔ اس ضمن میں آج روسی انٹیلی جنس کے حکام کو گوادر کا تفصیلی دورہ کرایا گیا، پاکستان اور چین جلد معاملات کو حتمی شکل دے کر روس کو سی پیک میں شامل کرنے کا اعلان کریں گے۔


پڑھیں: ’’ گوادر پورٹ : کارگو کنٹینرز جہاز مشرق وسطیٰ اور افریقی ممالک روانہ ‘‘


خیال رہے کہ گزشتہ روز عراقی سفیر نے وزیر بندرگاہ اور جہاز رانی میر حاصل بزنجو سے ملاقات کی اور گوادر پورٹ پر تیل صاف کرنے کے کاررخانہ لگانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا، دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں پاکستان سے عراق جانے والے زائرین کے لیے کشتی سروس بحال کرنے پر گفتگو بھی کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: ’’ گوادر بندرگاہ پر تیل صاف کرنے کا کارخانہ قائم کرنا چاہتے ہیں، عراقی سفیر ‘‘


اے آر وائی نیوز کے نمائندہ اسلام آباد حمزہ فاروق کے مطابق سی پیک منصوبے میں سب سے بڑا سرمایہ کار خود چین ہے اس لیے روسی درخواست پر سب سے پہلے چین کو اعتماد میں لیا جائے گااور اس کی اجازت کے بغیر روس منصوبے میں شمولیت اختیار نہیں کرسکتا۔

اس حوالے سے تجزیہ کار رسول بخش رئیس نے بتایا کہ دنیا میں بڑی تیزی سے تبدیلیاں آرہی ہیں،برطانیہ اور فرانس نے بھی گرم پانیوں تک رسائی کے  کئی منصوبے بنائے تھے کہ بحیرہ عرب تک کیسے پہنچا جائے، روس جب گرم پانیوں کی خواہش لیے افغانستان تک آیا تو ہم نے امریکا کے ساتھ مل کر اس کےخلاف مزاحمت کی،اب روس کا یہ درخواست کرنا خطے میں بہت بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ روس یہاں سے اپنی تجارت دنیا کے دیگر ملکوں سے کرنا چاہتا ہے تو ہم خوش ہیں، بجائے اس کے ہم امریکا کی طر ف دیکھیں ہمیں روس سے اپنے تعلقات بہتر کرنے چاہئیں، ہمارے روس کے ساتھ تعلقات باہمی مفاد پر چلیں گے اسی بنیاد پر ہم رو س سے شراکت داری کرسکتے ہیں، ہمیں روس کی اس درخواست کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔

سفارتی ذرائع نے بتایا پاکستان اور چین اس ضمن میں جلد معاملات کو حتمی شکل دیں گے۔

 واضح رہے کہ رواں ماہ چین کے تعاون سے بلوچستان کے علاقے گوادر میں تعمیر کی گئی بندر گاہ  کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے جس کے بعد یہاں سے مال خلیجی اور دنیا بھر کی عالمی منڈیوں میں بھیجا جارہا ہے۔
Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں