The news is by your side.

Advertisement

روس نے ایک بار پھر دنیا کو حیران کر دیا

ماسکو: یوکرین پر حملے کے بعد روس کو دباؤ میں لانے کے لیے مغربی ممالک نے پابندیاں عائد کی ہیں، تاہم روس نے یہ کہہ کر دنیا کو حیران کر دیا ہے کہ ان سب پابندیوں کے خلاف روس نے پہلے ہی سے تیاری کر لی تھی۔

تفصیلات کے مطابق روسی صدارتی ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس کے خلاف مغربی پابندیوں کی انھیں توقع تھی، اور روسی حکام نے ان کے لیے پہلے سے تیاری شروع کر دی تھی، جتنی پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں اس کے لیے روس پہلے ہی سے تیار تھا۔

پیسکوف کے مطابق روس ہرگز غافل نہیں تھا، پابندیوں کی یقینی توقع تھی، اس لیے مغربی ممالک کی جانب سے مختلف منظوریوں کے پیکجوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے روس میں تیاریاں شروع کر دی گئی تھیں۔

یاد رہے روس کے یوکرین میں جاری آپریشن کے بعد سے مغربی ممالک نے روس کے خلاف پابندیوں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

اس جنگ سے متعلق روسی مؤقف ہے کہ یوکرینی صدر زیلنسکی مغربی اشاروں پر چلتے ہوئے اپنے ملک کو جنگ کی دلدل میں مسلسل دھکیل رہے ہیں۔

روس نے جاپان کو جواب دے دیا

واضح رہے کہ یوکرین پر روسی حملے کا آج 14 واں دن تھا، صدر ولودیمیر زیلنسکی نے آج غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو میں یوکرین سے الگ ہونے والے روس کے حامی 2 علاقوں کی حیثیت پر سمجھوتا کرنے کا عندیہ دیا، اور یہ بھی کہا کہ وہ اب اپنے ملک کو معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کی رکنیت کے لیے بھی اصرار نہیں کر رہے۔

ٹی وی انٹرویو میں زیلنسکی نے کہا کہ نیٹو یوکرین کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہے، اور یہ فوجی اتحاد متنازع چیزوں اور روس کے ساتھ تصادم سے خوف زدہ ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں