The news is by your side.

Advertisement

‘خطے میں کسی ’انقلاب‘ کو رونما نہیں ہونے دیں گے’

ماسکو: روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے قازقستان میں جاری شورش کے تناظر میں بین الاقوامی قوتوں کو پیغام دیا ہے کہ روس خطے میں کسی ’انقلاب‘ کو رونما نہیں ہونے دے گا۔

تفصیلات کے مطابق پیر کو سابق سوویت ریاستوں کے رہنماؤں سے ملاقات میں روسی صدر پیوٹن نے واضح کیا کہ وسطی ایشیائی ملک قازقستان میں شورش کو رفع کرنے کے لیے ماسکو سے بھیجی گئی فوج ’محدود‘ وقت تک قیام کرے گی۔

روسی صدر کا کہنا تھا کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے فوج کا ایک دستہ قازقستان بھیجا گیا اور میں اس بات پر زور دینا چاہتا ہوں کہ یہ محدود وقت کے لیے ہے۔

صدر پیوٹن کا کہنا تھا کہ قازقستان کو ’بین الاقوامی دہشت گردی‘ کا نشانہ بنایا گیا، انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ روس خطے میں کسی ’انقلاب‘ کو رونما نہیں ہونے دے گا۔

خیال رہے کہ قازقستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج اور مظاہروں کے دوران تشدد میں اہل کاروں سمیت ڈیڑھ سو سے زائد افراد مارے گئے۔

روسی صدر نے کہا کہ اجتماعی سیکیورٹی کی تنظیم (سی ایس ٹی او) کے تحت افواج قازق صدر قاسم جومارت توقائیف کی درخواست پر بھیجی گئیں کیوں کہ قازقستان کو ’بین الاقوامی دہشت گردی کی جارحیت‘ کا سامنا تھا۔

قازقستان کے صدر نے اس اجلاس میں بتایا کہ سی ایس ٹی او نے ان کے ملک میں ڈھائی سو سیکیورٹی ہارڈ ویئرز سمیت دو ہزار فوجی اہل کار بھیجے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں