بیجنگ (20 مئی 2026): روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور چینی ہم منصب شی جن پنگ کی ملاقات میں خطے میں کشیدگی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
امریکی صدر ٹرمپ کے بعد روسی صدر پیوٹن دو دن کے سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچ گئے ہیں۔ دی گریٹ ہال آف دی پیپل میں پیوٹن نے چینی ہم منصب شی جن پنگ سے ملاقات کی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس موقع پر چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ دنیا جنگل کے قانون کی طرف واپس جانے کے خطرے سے دوچار ہے۔ جہاں طاقتور ممالک اپنی طاقت کے زور پر فیصلے مسلط کرتے ہیں۔
چینی صدر کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ بین الاقوامی صورتحال میں طاقت کی سیاست اور عالمی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ دنیا دوبارہ ایسے نظام کی طرف بڑھ سکتی ہے جہاں صرف طاقتور کی بات سنی جائے۔
انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں تنازع کا مزید بڑھنا ’غیردانسشمندانہ‘ اقدام ہو گا، ایک جامع جنگ بندی وقت کی اہم ضرورت ہے، جس کے لیے مذاکرات کا جاری رہنا بہت اہم ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا روس اور چین کو مل کر ایک منصفانہ اور معقول عالمی گورننس سسٹم کی تعمیر کیلیے کام کرنا چاہیے۔
واضح رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن منگل کی رات بیجنگ پہنچے تھے اور آج ان کی چینی ہم منصب سے ملاقات ہوئی ہے۔ اس دورے کو دنیا بھر میں اس لیے بہت غور سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے کے چند روز بعد ہوا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ ملاقات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے کے چند روز بعد ہو رہی ہے اس لیے اس کو بہت غور سے دیکھا جا رہا ہے اور اس کا ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے سے موازنہ بھی کیا جائے گا۔
صدر پیوٹن نے چین کا آخری دورہ ستمبر 2025 میں کیا تھا اور اس وقت تیانجن میں ہونے والے سنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی تھی اور دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کو 80 سال مکمل ہونے پر تقریب میں شرکت کے دوران فوجی پریڈ بھی دیکھی تھی اور صدر شی جن پنگ کے ساتھ بات چیت بھی کی تھی۔
اس وقت صدر شی نے روسی ہم منصب کو اپنا ایک ’پرانا دوست‘ قرار دیا تھا جبکہ جواب میں صدر پیوٹن نے ان کو ’ڈیئر فرینڈ‘ کہا تھا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


