The news is by your side.

Advertisement

روسی کرپٹو اکاؤنٹس نے امریکا کے لیے مشکل پیدا کر دی

واشنگٹن: روسی کرپٹو اکاؤنٹس پر پابندی لگانے میں ناکامی پر امریکی محکمہ خزانہ پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ پر روسی کرپٹو کرنسی اکاؤنٹس پر پابندی لگانے کے لیے دباؤ بڑھ گیا ہے، امریکی قانون ساز مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کاؤنٹس پر فوری طور پر پابندی لگائی جائے۔

امریکی سینیٹر الزبتھ وارین اور دیگر تین ڈیموکریٹک قانون سازوں نے محکمہ خزانہ پر زور دیا ہے کہ وہ روس پر عائد اقتصادی پابندیوں پر کرپٹو کرنسی انڈسٹری میں بھی عمل درآمد یقینی بنائے۔

امریکی قانون سازوں نے خدشات ظاہر کیے ہیں کہ امریکا کی خارجہ پالیسی کے اہداف کے خلاف ڈیجیٹل اثاثوں کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔

امریکی سیکریٹری خزانہ جینٹ یلین کو قانون سازوں الربتھ وارین، شیروڈ براؤن، مارک وارنر اور جیکریڈ کی جانب سے بذریعہ خط ایک سوال نامہ بھی ارسال کیا گیا ہے، جس میں محکمہ خزانہ کو 23 مارچ تک کی مہلت دیتے ہوئے وضاحت مانگی گئی ہے کہ محکمے کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات (او ایف اے سی) کی کرپٹو انڈسٹری پر پابندیوں کے نفاذ پر عمل درآمد کے حوالے سے کیا گائیڈ لائنز ہیں؟

واضح رہے کہ گزشتہ روز دنیا کے بڑے کرپٹو کرنسی ایکسچینجز ’کوائن بیس‘ اور ’بائنینس‘ نے روسی شہریوں کے کرپٹو کرنسی اکاؤنٹس منجمد کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا، عام روسی شہریوں کی پریشانیاں ایسے کڑے وقت میں کرپٹو اکاؤنٹس کی بندش سے مزید بڑھ جائیں گی۔

کرپٹو ایکسچینج کی جانب سے روسی کرپٹو اکاؤنٹس کو بند کرنے سے انکار پر سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کے یورپی ہم عصروں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں