The news is by your side.

Advertisement

امریکا سے بے دخل 60روسی سفارتکار اہل خانہ سمیت ماسکو پہنچ گئے

 واشنگٹن: برطانیہ کی حمایت میں امریکا سے نکالے گئے 60 روسی سفیر اتوار کی صبح اپنے  اہل خانہ کے ہمراہ ماسکو پہنچ گئے، امریکا نے ان سفارت کاروں پر ’جاسوس‘ ہونے کا الزام عائد کرکے ملک  بدر کرنے کے احکامات دیئے تھے۔

تفصیلات کے مطابق گذشتہ مہینے برطانیہ میں سابق روسی جاسوس اور اس کی بیٹی  پر ہونے والے قاتلانہ حملے کا الزام برطانیہ نے روس پر عائد کیا تھا جس کے بعد امریکا نے برطانیہ کی حمایت کرتے ہوئے واشنگٹن اور نیو یارک میں تعینات 60 روسی سفارت کاروں کوان کے اہل خانہ کے ہمراہ امریکا چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق اتوار کی صبح دو طیارے سے روسی دارالحکومت ماسکوکے ونوکووو کے ہوائی اڈے پر لینڈ ہوئے جس میں نیو یارک اور واشنگٹن میں سے ملک بدر کیے گئے سفارت کار اور ان کے اہل خانہ سمیت 171 روسی شہری سوار تھے۔

امریکا سے بے دخلی کے بعد ماسکو پہنچے والے سفارت کارجہاز سے اتر رہے ہیں

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مستقبل قریب میں روس اور امریکا کا سربراہی اجلاس متوقع ہے، امریکی سفارتخانے کے مطابق ’امریکا میں روسی قونصل خانے کے بند ہوجانے کے وجود دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات بہت کرنے کی ہماری کوشش جاری رہے گی‘۔

امریکی حکام کا سیائٹل میں روسی قونصل خانے کو بند کرتے ہوئے کا کہنا تھا کہ ماسکو حکومت چاہے تو امریکا سے بے دخل کیے جانے والے سفارت کاروں کی جگہ نئے سفیروں کو تعینات کرسکتی ہے، امریکا کے رد عمل میں روس نے بھی سینٹ پیٹرز برگ میں امریکی قونصلیٹ کو بند کرتے ہوئے ساٹھ امریکی سفیروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔

امریکا، یورپی یونین، نیٹو کے رکن ریاستوں اور دیگر ممالک کی جانب سے برطانیہ کی سے اظہار یکجتی کرتے ہوئے ڈیڑھ سو سے زائد روسی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔


روس کا 60 امریکی سفارتکاروں کی بے دخلی کا اعلان


یاد رہے کہ برطانیہ کے شہر سالسبری میں سابق روسی جاسوس سرگئی اسکریپال اور اس کی بیٹی یویلیا کو زہر دیے جانے کا الزام برطانوی حکام نے روس پر عائد کیا تھا جس کے بعد برطانیہ اور روس کے مابین سفارتی تناؤ پیدا ہوگیا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں