site
stats
عالمی خبریں

روسی وزیررشوت کے الزام میں گرفتار، صدرنے برطرف کردیا

ماسکو : روس کے وزیر برائے معاشی ترقی  الیکسی اولوکایف کو بیس لاکھ ڈالر رشوت لینے کے الزام میں گرفتار  کرلیا گیا ہے۔ بعد ازاں روسی صدر پیوٹن نے اقتصادی ترقی کے وزیر کو عہدے سے بھی برطرف کر دیا۔

روس کی تحقیقاتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ وزارت معاشی ترقی کی جانب سے ملنے والی رپورٹ پر وزیر کو حراست میں لیا گیا ہے، یلیوکیاف پر الزام ہے کہ ایک معاہدے میں انھوں نے تیل کی نجی کمپنی کی حمایت کے بدلے بیس لاکھ ڈالر کی رشوت وصول کی تھی۔

 بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے خام تیل پیدا کرنے والی نجی کمپنی بیش نیفٹ سے مثبت رپورٹ دینے کے لئے یہ رقم وصول کی۔ روس کی سرکاری خام تیل پیدا کرنے والی کمپنی روس نیفٹ نے گزشتہ ماہ بیش نیفٹ کے پچاس فیصد حصص پانچ ارب ڈالر میں خریدے تھے۔

انہوں نے کہا کہ جلد ہی اس سلسلے میں تفصیلی تحقیقات کی جائیں گی۔ روسی وزیر کے خلاف تفتیش کے بعد فرد جرم عائد کی جائے گی، الزام ثابت ہونے پرانھیں آٹھ سے پندرہ برس قید اور رشوت کی رقم کا ستر گنا سے زائد جرمانہ ہوسکتا ہے۔

خیال رہے کہ 1991 کے بعد سے ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ روس میں اتنے بڑے عہدے پر فائز کسی شخصیت کو گرفتار کیا گیا ہے۔


مزید پڑھیں : جلماروسیف کا برازیل کے صدر پررشوت لینے کاالزام


واضح  رہے کہ جند روز قبل برازیل کی سابق صدر جلما روسیف کی جانب سے صدر مائیکل ٹیمر پر تعیمراتی کمپنی سے رشوت لینے کا الزام عائد کیا گیا تھا، دستاویزات کے مطابق مائیکل ٹیمر کو تعیمراتی کمپنی کی جانب سے 2لاکھ، 95 ہزار ڈالرز کی ادائیگی کی گئی تھی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top