The news is by your side.

Advertisement

روسی صدر، ٹرمپ کی دعوت پر وائٹ ہاؤس جائیں گے

ماسکو: روسی صدر ولادی میر پیوٹن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر امریکا جائیں گے، روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے دورے کی تصدیق کردی ہے۔

تفصیلات کے مطابق روسی وزیر خارجہ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دورے کی دعوت امریکی صدر نے دی تھی، دونوں ملکوں کے صدور نے ایک دوسرے کے خلاف فوجی تصادم کے مرحلے کی طرف نہ جانے پر سو فی صد اتفاق کرلیا ہے۔

خیال رہے کہ شام کے سلسلے میں امریکا اور روس کے مابین کشمکش کے حوالے سے عالمی تجزیہ نگار اس بات کی نشان دہی کرچکے ہیں کہ امریکا اور اتحادیوں کے حملوں میں احتیاط سے کام لیا جاتا ہے تاکہ روسی فوج کا جانی نقصان نہ ہو، سرگئی لاروف نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو نے واشنگٹن کو شام میں سرخ لکیر کے بارے میں آگاہ کردیا تھا اور حالیہ حملے میں روس کی وضع کردہ سرخ لکیر کو عبور نہیں کیا گیا۔

روس تمہیں بتاؤں گا ٹرمپ جیسی سختی کوئی نہیں کرسکتا، ڈونلڈٹرمپ

انھوں نے کہا کہ شام میں امریکی حملے کے بعد روس اس عہد کا پابند نہیں رہا ہے کہ وہ اسد حکومت کو ’ایس 300‘ میزائل نظام نہیں دے گا۔ خیال رہے گزشتہ روز دونوں ممالک کے درمیان شام میں حملے کی وجہ سے پیدا ہونے والی تازہ کشیدگی کے بعد پہلا براہ راست رابطہ اس وقت ہوا جب امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن اور روسی سفیر اناتولی انتونوف کے درمیان ملاقات ہوئی۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ امریکی قومی سلامتی کے مشیر جون بولٹن نے واشنگٹن میں روسی سفیر اناطولی انتونوف سے ملاقات کی اور یہ اعلی سطح کے دونوں عہدے داران کے درمیان اپنی نوعیت کی پہلی ملاقات ہے۔

واضح رہے کہ دوما میں شامی فوج کی طرف سے مبینہ کیمیائی حملے کے ردعمل میں امریکا، برطانیہ اور فرانس نے شامی فوج کی متعدد تنصیبات پر میزائل حملے کیے تھے جس پر بشارالاسد کے حلیف ملک روس نے شدید احتجاج کیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں