The news is by your side.

Advertisement

طالبان اور دیگر قوتوں کے درمیان ثالثی، روس نے اہم ترین اعلان کردیا

ماسکو: روس نے طالبان اور دیگر سیاسی قوتوں کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کرنے سے معذرت کرلی ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بتایا کہ روس کا طالبان اور دیگر سیاسی قوتوں کے درمیان مذاکرات میں خود کو ثالث کے طور پر پیش کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، ہم نے طویل عرصے سے افغانستان میں طالبان اور دیگر نسلی سیاسی گروہوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایک جامع عبوری حکومت کے قیام کے لیے مذاکرات کریں۔

روسی وزیر خارجہ نے نشاندہی کی کہ ہر کوئی افغانستان میں طالبان اور دیگر نسلی اور سیاسی قوتوں کو مغربی ممالک ، چین اور وسط ایشیائی ریاستوں کو بھیجے گئے پیغامات کے بارے میں اتفاق رائے حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

سرگئی لاوروف نے کہا کہ جہاں تک پنجشیر میں مزاحمت کا تعلق ہے ، تاجکستان میں روس کے اتحادیوں کا ایک خاص کردار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مغربی ممالک نے افغانستان میں کون سی بڑی غلطی کی؟ روسی وزیر خارجہ کا اہم بیان

واضح رہے کہ طالبان کے ساتھ قریبی تعلقات کے باوجود روس کسی بھی طرح کی جلدبازی نہیں دکھا رہا، وہ اب بھی رسمی طور پر پیش آ رہا ہے اور رونما ہونے والے حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

صدر پوتن نے کہا ہے کہ انھیں امید ہے کہ طالبان امن بحال کرنے کے اپنے وعدے پورے کریں گے، انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ دہشت گردوں کو پڑوسی ممالک میں داخلے کی اجازت نہ دی جائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں