site
stats
خواتین

روسی حسینہ کا کیٹ واک کے دوران انتقال

بیجنگ: روس سے تعلق رکھنے والی جواں سال ماڈل چین میں کیٹ واک کے دوران انتقال کر گئیں.

تفصیلات کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ بیجنگ میں منعقد ہونے والے فیش شو کے دوران پیش آیا جب 14 سالہ روسی ماڈل ولادا ڈزیوبا اسٹیج پر کیٹ واک کر رہی تھیں کہ اچانک چکرا کر گر گئی.

خوبرو ماڈل کو قریبی اسپتال لے جایا گیا جہاں وہ دو دن تک کوما میں رہنے کے بعد آج جہان فانی سے کوچ کر گئیں ان کی میت کو ضروری کارروائی کے بعد روس میں واقع اُن کے آبائی گاؤں روانہ کردیا جائے گا.

اسپتال انتطامیہ کا کہنا ہے کہ کم سن خوبصورت ماڈل حد درجہ کام، ،تناؤ، نیند پوری نہ ہونا اور نامناسب خوراک کے باعث نفسیاتی الجھنوں کا شکار تھیں اور اسی کشمکش اور نقاہت کے باعث چکر کر اسٹیج پر گر گئیں اور پھر جانبر نہ ہو سکیں.

خیال رہے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی 14 سالہ ماڈل نے مالی بحران پر قابو پانے اور والدین کا ہاتھ بٹانے کے لیے گزشتہ ماہ ہی چین کی ایک ماڈلنگ ایجنسی سے تین مہینے کامعاہدہ کیا تھا اور اسی سلسلے میں وہ بیجنگ میں مقیم تھیں.

کرکے بیجنگ میں منعقدہ فیشن شو سے اپنے بین الاقوامی کیریئر کا آغاز کیا تھا، متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی روسی ماڈل نے مالی بحران کے باعث خاندان کی کفیل بن کر ماڈلنگ کی چکاچوند دنیا میں قدم رکھا تھا.

ولادا ڈزیوبا کی والدہ نے میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک ماہ سے ایک ماڈل ایجنسی کے یہاں ملازم تھی جہاں وہ مسلسل دن و رات کام کر رہی تھی اور جب بھی فون کال کرتی تو استطاعت سے بڑھ کر کام لینے اور اپنی خرابی صحت کے باعث پریشان محسوس ہوتی تھی اور دل برداشتہ ہو کر رونے لگتی.

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ماڈل کی موت کے بعد پتہ چلا کہ مذکورہ کمپنی نے نہ تو میڈیکل انشورنس دیا اور نہ علاج کرانے میں کوئی خاص دلچسپی ظاہر کی جب کہ معاہدے کے برخلاف ماڈل سے تین گھنٹے کے بجائے 14 گھنٹے کام لیا جاتا تھا.

پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کرتے ہوئے ابتدائی شواہد کی روشنی میں تحقیقات کا آغاز کردیا ہے اور مذکورہ ایجنسی سے معاہدے کے متعلق پوچھ گچھ کا سلسلہ جاری ہے جب کہ ماڈل کے والدین کو قانونی چارہ جوئی کے لیے چین آنے کی دعوت بھی دی گئی ہے.


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top