اسلام آباد (18 مارچ 2026): پاکستان میں روسی سفیر البرٹ خوریف نے کہا ہے کہ روس پاکستان کو رعایتی قیمت پر تیل دینے کے لیے تیار ہے، پاکستان کی رسمی درخواست آئے گی تو فوری تیل فراہم کیا جائے گا۔
روسی سفیر کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان باضابطہ طور پر رابطہ کرے تو روس سستا تیل فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، جس سے پاکستان موجودہ عالمی صورت حال میں فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
منگل کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ان کی معلومات کے مطابق پاکستان نے ابھی تک تیل کی خریداری کے لیے روس سے باضابطہ رابطہ نہیں کیا ہے، تاہم اگر ایسا کیا جاتا ہے تو روس رعایتی قیمت پر تیل فراہم کرے گا۔
البرٹ خوریف نے اس بات پر زور دیا کہ توانائی کا شعبہ پاکستان اور روس کے درمیان تعاون کا ایک اہم ستون ہے اور دونوں ممالک اس میں مزید بہتری لا سکتے ہیں۔
کراچی بندرگاہ پر بھی خام تیل کے مزید ٹینکرز کی آمد شروع ہو گئی
واضح رہے کہ پورٹ قاسم کے بعد کراچی پورٹ پر بھی خام تیل کے مزید ٹینکرز کی آمد شروع ہو گئی ہے، ایم ٹی آئیاسوناس 73 ہزار ٹن کروڈ آئل لے کر کراچی پہنچ گیا ہے، ایم ٹی سرگودھا بھی 73 ہزار ٹن کروڈ آئل لے کر کراچی پہنچ گیا، مجموعی طور پر دونوں ٹینکرز 1 لاکھ 46 ہزار میٹرک ٹن خام تیل لے کر کراچی پہنچے ہیں۔
19 مارچ کو ایم ٹی لاہور کی آمد بھی متوقع ہے جو 73 ہزار میٹرک ٹن کروڈ آئل لائے گا، ایم ٹی کراچی بھی 18 یا 19 مارچ کو پہنچ سکتا ہے، جو 8 لاکھ لیٹرز کروڈ آئل لے کر آئے گا۔
ٹینکرز کی آمد سے ملک میں خام تیل کی سپلائی میں بہتری کا امکان ہے، انڈسٹری ذرائع کا کہنا ہے کہ ریفائنری سیکٹر کو فیڈ اسٹاک کی فراہمی یقینی بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


