The news is by your side.

روسی تیل سے متعلق یورپی یونین نے ایک بڑے فیصلے پر اتفاق کر لیا

برسلز: یورپی یونین نے آخر کار روسی تیل کی قیمت کی حد مقرر کرنے پر اتفاق کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق یورپی اتحاد روس کے سمندری ترسیل والے خام تیل کی قیمت 60 ڈالر فی بیرل مقرر کرنے پر متفق ہو گیا ہے۔

یورپی یونین کی صدر ارسلا وان ڈر لیئن کے مطابق قیمتوں کے تقرر کی حد سے روس کی آمدنی میں نمایاں کمی آئے گی، روس صرف ٹینکر کے ذریعے رعایتی قیمتوں پر تیل برآمد کر سکے گا۔

دوسری جانب روس نے ایسی کسی بھی حد کو ماننے سے انکار کیا ہے، اور کہا ہے کہ اس طرح کا فیصلہ مارکیٹ کے تمام نظام کو متاثر کرے گا اور تیل کی عالمی صنعت پر منفی اثرات پڑیں گے۔

روئٹرز کے مطابق گروپ آف سیون (جی 7) ممالک اور آسٹریلیا نے جمعہ کے روز کہا کہ انھوں نے روسی سمندری خام تیل پر 60 ڈالر فی بیرل قیمت کی حد مقرر کرنے پر اتفاق کیا ہے، اس سے قبل یورپی یونین کے ارکان نے اس سلسلے میں پولینڈ کی جانب سے مزاحمت پر قابو پایا تھا۔

یورپی یونین نے پولینڈ کی حمایت کے بعد قیمت پر اتفاق کیا، جس سے ہفتے کے آخر میں باضابطہ منظوری کی راہ ہموار ہوئی۔ G7 اور آسٹریلیا نے ایک بیان میں کہا کہ قیمت کی حد 5 دسمبر یا اس کے بہت جلد بعد نافذ ہو جائے گی۔

ادھر امریکا نے کہا ہے کہ روسی تیل کی قیمت پر یہ نئی حد پیوٹن کی آمدنی کے سب سے اہم ذریعے کو متاثر کرے گی، امریکی وزیر خزانہ جینٹ ییلن نے کہا کہ یہ پرائس کیپ جسے جمعہ کو مغربی اتحادیوں نے باضابطہ طور پر منظور کیا تھا، مہینوں کی محنت کے بعد سامنے آیا ہے۔

انھوں نے کہا کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک جو توانائی اور خوراک کی اونچی قیمتوں سے بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں، خاص طور پر اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔ انھوں نے کہا یہ حد روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی مالیات کو مزید محدود کر دے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں