ہفتہ, اپریل 18, 2026
اشتہار

روسی تیل پر پابندیوں میں امریکی نرمی، یورپ میں تشویش کی لہر

اشتہار

حیرت انگیز

برسلز (14 مارچ 2026): یورپی رہنماؤں نے روسی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی کے امریکی فیصلے کی مخالفت کر دی۔

صدر یورپی کونسل انتونیو کوسٹا نے امریکی فیصلے کو انتہائی تشویش ناک قرار دیا، اور کہا کہ اس فیصلے سے یورپ کی سلامتی متاثر ہوتی ہے۔ ایکس پر انھوں نے لکھا کہ پابندیوں میں نرمی سے یوکرین کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے روسی وسائل میں اضافہ ہوگا۔

یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ اس اقدام سے روس کو 10 ارب ڈالر کا فائدہ ہوگا، فرانسیسی صدر امانوئل میکرون نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کسی صورت پابندیاں ہٹانے کا جواز نہیں بنتی، کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ روس پر پابندیاں برقرار رہنی چاہئیں۔

امریکا نے اُن پابندیوں میں نرمی کر دی ہے جو دیگر ممالک کو سمندر میں موجود جہازوں پر پہلے سے لدا ہوا روسی تیل اور پیٹرولیم خریدنے سے روکتی تھیں۔ یہ اقدام ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے باعث پیدا ہونے والی توانائی کی قلت کو کم کرنے کی کوشش کے طور پر کیا گیا ہے۔

اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیں

اس فیصلے پر یورپ اور کینیڈا کے رہنماؤں نے تنقید کی ہے اور خبردار کیا کہ اس سے ولادیمیر پیوٹن کی حکومت کو فائدہ پہنچے گا۔ جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے جمعہ کے روز کہا کہ اس وقت پابندیوں میں نرمی کرنا غلط ہے۔ فرانس کے صدر امانوئل میکرون نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کسی صورت روس پر عائد پابندیاں ہٹانے کا جواز نہیں بنتی، جب کہ کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ روس اور اس کے شیڈو فلیٹ پر پابندیاں برقرار رہنی چاہئیں۔

لندن برینٹ 2.67 فی صد، امریکی ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 3.11 فی صد مزید مہنگا

برطانیہ کے توانائی کے وزیر مائیکل شانکس نے کہا کہ ان کا ملک روسی تیل پر پابندیوں میں نرمی کے معاملے میں امریکا کی پیروی نہیں کرے گا۔ انھوں نے ایک ریڈیو پروگرام ٹوڈے میں کہا ’’ہم ہرگز یہ نہیں چاہتے کہ پیوٹن کریملن میں بیٹھ کر اسے جنگی مشین کو مزید مضبوط کرنے کا موقع سمجھے۔‘‘

یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے جمعے کو پیرس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ امریکا کا یہ فیصلہ روس کو جنگ کے لیے تقریباً 10 ارب ڈالر (753 ملین پاؤنڈ) فراہم کر سکتا ہے۔ اے ایف پی کے مطابق انھوں نے کہا کہ یہ اقدام یقیناً امن کے لیے مددگار نہیں۔

تاہم روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے اقتصادی نمائندے کریل دمترییف نے کہا کہ امریکا دراصل ایک واضح حقیقت کو تسلیم کر رہا ہے کہ روسی تیل کے بغیر عالمی توانائی کی منڈی مستحکم نہیں رہ سکتی۔ انھوں نے کہا توانائی کے بڑھتے ہوئے بحران کے درمیان روسی توانائی کے ذرائع پر پابندیوں میں مزید نرمی ناگزیر ہوتی جا رہی ہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں