واشنگٹن (07 مارچ 2026): ایران جنگ کے باعث توانائی کی فراہمی کے خدشات بڑھنے پر امریکا نے بھارت کو روسی تیل خریدنے کے لیے 30 دن کی چھوٹ دے دی۔
امریکا کا ڈبل گیم سامنے آ گیا، بھارت کو سستا روسی تیل خریدنے کی اجازت مل گئی جب کہ دنیا مہنگا تیل خریدنے پر مجبور ہے۔ روس بھارت کو عالمی قیمت سے تقریباً 20 سے 30 ڈالر فی بیرل کم پر خام تیل فراہم کرتا ہے، عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل 90 ڈالر پر ہے جب کہ روسی خام تیل 65 ڈالر فی بیرل پر مل رہا ہے۔
گزشتہ روز امریکا نے بھارت کو 30 دن کے لیے سمندروں میں موجود جہازوں پر لوڈ روسی خام تیل لینے کی اجازت دے دی ہے، اس اجازت سے بھارت کو سستا تیل حاصل کرنے موقع ملے گا، جب کہ عالمی سطح پر امریکی اسرائیل جنگ کی وجہ سے دنیا میں تیل مہنگا ہو رہا ہے، جس سے دنیا میں مہنگائی کی ایک اور نئی لہر آئے گی۔
امریکی وزیر خزانہ کا کہنا ہے پہلے ہی سمندر میں رکے ہوئے روسی خام تیل کی بھارت کو فروخت کرنے کے لیے 30 دن کی رعایت دی ہے، یہ عارضی رعایت عالمی منڈی میں مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ہے۔ امریکی وزیر خزانہ کے مطابق یہ اقدام صرف اُس تیل پر لاگو ہوگا جو پہلے ہی سمندر میں پھنسا ہوا ہے، اس سے روسی حکومت کو کوئی بڑا مالی فائدہ نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکا نے بھارت کی جانب سے روسی خام تیل خریدنے پر پہلے 25 فی صد ’’جرمانہ‘‘ ٹیرف عائد کیا تھا جو گزشتہ ماہ واپس لے لیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایران کی جنگ نے عالمی تیل کی فراہمی کو متاثر کر دیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق روسی تیل کی خریداری پر دی گئی اس رعایت سے عالمی سطح پر تیل کی فراہمی کے خدشات کم ہونے میں مدد مل سکتی ہے، کیوں کہ بھارت دنیا کا چوتھا بڑا ریفائننگ ملک اور پیٹرولیم مصنوعات کا پانچواں بڑا برآمد کنندہ ہے۔
امریکا میں بھی پیٹرول کی قیمت آسمان پر پہنچ گئی
ماہرین کے مطابق نئی دہلی، جو دنیا کا تیسرا بڑا تیل درآمد کرنے والا ملک بھی ہے، پہلے روسی تیل کی خریداری کم کر کے اس کی جگہ مشرقِ وسطیٰ سے سپلائی لے رہا تھا۔ تاہم خلیجی ممالک سے توانائی کی فراہمی ایران جنگ کی وجہ سے متاثر ہونے کے بعد بھارت دوبارہ ماسکو سے تیل کی سپلائی مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
مارکیٹ میں گردش کرنے والی معلومات کے مطابق نئی دہلی نے گزشتہ دو سے تین دنوں میں ممکنہ طور پر 60 سے 80 لاکھ بیرل تک روسی تیل خرید لیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


