The news is by your side.

Advertisement

میزائلوں کی تنصیب میں پہل کی تو امریکا روسی میزائلوں کے نشانے پر ہوگا، پیوٹن

ماسکو : روسی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ اگرامریکا نے یورپی ممالک میں جوہری میزائل نصب کرنے کی غلطی کی تو امریکا بھی میزائلوں کا ہدف ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق ماسکو نے اپنے روائتی حریف واشنگٹن کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی پالیسی سازوں نے یورپی حدود میں کم فاصلے پر مار کرنے والے میزائل نصب کیے تو نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے پارلیمنٹ میں اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روس عالمی امن کو خراب نہیں کرنا چاہتا اسی لیے جوہری میزائلوں کی تنصیب میں پہل نہیں کررہا لیکن اگر امریکا نے ایسا کیا تو بھرپور ردعمل دیا جائے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ولادیمیرپیوٹن کا کہنا تھا کہ امریکا کو درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے جوہری میزائل نصب کرنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے۔

ولادیمیر پیوٹن نے مزید کہا کہ امریکی پالیسی سازوں کو میزائل کی تنصیب کے باعث پیدا ہونے والے حالات و خطرات کا جائزہ لے لینا چاہیے۔

مزید پڑھیں: امریکا کا روس کے ساتھ ایٹمی ہتھیاروں کا معاہدہ ختم کرنے کا اعلان

واضح رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کے ساتھ جوہری ہتھیاروں کے معاہدے کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ روس نے 1987 کے انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئر فورسز (آئی این ایف) معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔

آئی این ایف معاہدے کے مطابق زمین سے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں پرپابندی ہے، یہ فاصلہ 500 سے 5500 کلومیٹرہے۔

امریکی صدر نے کہا تھا کہ امریکا روس کو ان ہتھیاروں کی اجازت نہیں دے گا، روس برسوں سے اس معاہدے کی پاسداری نہیں کر رہا۔

امریکی صدر کے آئی این ایف معاہدے سے انخلاء کے اعلان کے پر رد عمل دیتے ہوئے روس نے بھی ایٹمی ہتھیاروں میں کمی کے معاہدے کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

یاد رہے کہ روسی صدر ولادی میرپیوٹن نے 2007 میں اعلان کیا تھا کہ یہ معاہدہ اب روسی مفادات میں نہیں ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں