The news is by your side.

Advertisement

روسی صدر پیوتن نے امریکا پر بڑا الزام عائد کردیا

ماسکو : روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ عالمی سیاست میں استحکام بہت ضروری ہے لیکن ممالک کے اندرونی معاملات میں امریکی یکطرفہ مداخلت سے عالمی عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔

پیر کو نشر ہونے والے این بی سی کے ساتھ انٹرویو کے دوران جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ آیا وہ بدھ کے روز جنیوا میں اپنے امریکی ہم منصب جو بائیڈن سے ملاقات کے دوران دنیا میں استحکام کے مطالبے کی حمایت کریں گے؟

جس کے جواب میں صدر پیوتن نے کہا کہ بین الاقوامی امور میں یہ مسئلہ سب سے اہم ہے۔ تاہم انہوں نے مزید کہا ہمارے امریکی شراکت داروں کی طرف سے عالمی استحکام کا قیام وہ چیز ہے جو ہم نے حالیہ برسوں میں نہیں دیکھی ہے۔

روسی صدر نے اگزشتہ روز دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ اگرچہ واشنگٹن مسلسل بین الاقوامی ہم آہنگی کی ضرورت پر بات کرتا ہے لیکن امریکا نے حالیہ برسوں میں اس مقصد کے لئے شاید ہی کوئی مثبت کردار ادا کیا ہو۔

این بی سی کی جانب سے انٹرویو لینے والے میزبان نے روسی صدر سے دریافت کیا کہ بائیڈن پہلے بھی روس پر بہت زیادہ عدم استحکام اور غیر متوقع صورت حال پیدا کرنے کا الزام عائد کرتے رہے ہیں، اس بارے میں آپ کا کیا کہنا ہے؟

جس کے جواب میں صدر پیوتن نے کہا کہ ماسکو بھی امریکی خارجہ پالیسی کے اثرات پر تشویش رکھتا ہے۔ روسی صدر نے حوالہ دیتے ہوئے سال 2011میں مشرق وسطیٰ کے بیشتر علاقوں میں انتشار پھیلانے سمیت لیبیا کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے پر واشنگٹن کے کردار کو بیان کیا۔

صدر پوتن نے کہا کہ جب میں نے شامی صدر بشار الاسد کے اقتدار سے دستبردار ہونے کی صورت میں شام کے سیاسی مستقبل کے بارے میں امریکی عہدیداروں سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ان کے پاس اس کے بارے میں کوئی واضح حکمت عملی نہیں ہے کہ اس کے بعد شام کا کیا ہوگا۔

روسی صدر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ نہیں جانتے کہ بشار الاسد کے جانے کے بعد کیا ہوگا تو ابھی وہاں شام میں جو موجودہ صدر ہے اسے آپ کیوں تبدیل کرںا چاہتے ہیں؟ روسی صدر نے کہا کہ اگر امریکا اور اس کے اتحادی اسد کو اقتدار سے ہٹانے میں کامیاب ہو جاتے تو شام دوسرا لیبیا یا دوسرا افغانستان بن سکتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ روس نے 2015 میں دمشق کی درخواست کے بعد تنازعہ میں شام کی حکومت کی حمایت کی ہے۔

روسی صدر پیوتن نے دعویٰ کیا کہ بالآخر یہ ثابت ہوگیا کہ یہ امریکہ کا یکطرفہ پن ہے اور واشنگٹن کی خواہش ہے کہ وہ دوسروں پر اپنی مرضی مسلط کرے جو بین الاقوامی میدان میں عالمی استحکام کو متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا اس طرح عالمی استحکام حاصل نہیں ہوتا. انہوں نے مزید کہا کہ جنگ و جدل یا خون ریزی کی بجائے صرف بات چیت ہی عالمی سلامتی اور امن کو یقینی بنا سکتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں