The news is by your side.

Advertisement

روسی سائنسدان نے خود کو دانستہ طور پر کوویڈ19 میں مبتلا کرلیا

ماسکو : روسی سائنسدان نے محض تحقیق کیلئے اپنی جان داؤ پر لگادی، کوویڈ19کے بارے میں مزید معلومات کیلئے خود کو دانستہ طور پر کورونا وائرس میں مبتلا کرلیا۔

اس وقت دنیا بھر میں 160 سے زیادہ گروپ اور ادارے کورونا وائرس کی ویکسیین کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ماہرین کورونا وائرس سے متعلق نئی سے نئی معلومات اکٹھی کر رہے ہیں۔

اس سلسلے میں ایک روسی سائنس دان نے محض تحقیق کے لئے کوویڈ 19 سے جان بوجھ کر خود کو متاثر کیا، روسی وائرسولو جسٹ پروفیسر69سالہ ڈاکٹر الیگزینڈر چیپرنوف نے خود پر تحقیق کی۔

پروفیسر اور ان کی ٹیم نے یہ اخذ کیا کہ جسم میں اینٹی باڈیز تیزی سے کم ہوتی ہیں، ٹیم نے زیادہ تر اینٹی باڈی کے اثرات اور جسم کے اندر ان کی لمبی عمر پر تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ اس سے پہلے انفیکشن ہونے کے 3 ماہ بعد اینٹی باڈیز کا اب پتہ نہیں چل سکا ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق  روسی وائرسولوجسٹ اور پروفیسرجنہوں نے جان بوجھ کر دوسری بار بیمار ہونے کے تجربے میں خود کو کورونا وائرس سے متاثر کیا ، ان کا کہنا ہے کہ قوت مدافعت کے حوالے سے مبالغہ آرئی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیاجاتاہے۔

69سالہ ڈاکٹر الیگزینڈر چیپرنوف رواں سال فروری میں فرانس کے اسکینگ ٹرپ پر تھے جب انہیں انفیکشن ہوا۔ کورونا وائرس ٹیسٹ کے مثبت ہونے پر انہیں اسپتال داخل کرانے کی ضرورت نہیں تھی اور سائبیریا میں وطن واپس آنے کے بعد وہ صحتیاب ہوگئے۔

تاہم انسٹی ٹیوٹ آف کلینیکل اینڈ تجرباتی میڈیسن میں چیپرنوف اور ان کی محققین کی ٹیم کو وائرس کے اینٹی باڈیز سے متعلق ایک تحقیق شروع کرنے کا کہا گیا۔

ڈاکٹر الیگزینڈر چیپرنوف کا کہنا ہے کہ جب میں بیمار ہوا اس وقت سے تیسرے مہینے تک اینٹی باڈی کا پتہ ہی نہیں چلا، اس کے
بعد میں نے فیصلہ کیا کہ کچھ خطرناک کرنا چاہیے۔

روس کے گامالیا انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کہ وہ اگلے ماہ کچھ ہزار ویکسین کی تیاری کا آغاز کردے گا جسے اگلے برس کے
شروع میں لاکھوں کی تعداد تک بڑھایا جائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں