The news is by your side.

Advertisement

روانڈا جیسے ملک میں بھی ایئرپورٹ پر مسافروں کی سخت چیکنگ

امریکہ اور برطانیہ سمیت کئی یورپی ممالک میں ایئرپورٹ پر بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کی سخت چیکنگ تو ایک معمول کی بات بن گئی ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں مشرقی افریقہ کا ملک روانڈا بھی اپنے ملک میں آںے والے افراد کی نہایت سخت چیکنگ کرتا ہے؟

اگر کبھی آپ کا روانڈا جانے کا اتفاق ہو تو ایئرپورٹ پر اترتے ہی آپ کے سامان کی نہایت سخت چیکنگ کی جائے گی۔ اس لیے نہیں کہ کہیں آپ اسلحہ یا منشیات اپنے ساتھ نہ لیے جا رہے ہوں، بلکہ اس لیے کہ کہیں آپ کے سامان میں پلاسٹک بیگ تو موجود نہیں۔

جی ہاں، روانڈا میں پلاسٹک کی تھیلیاں اپنے ساتھ رکھنا یا استعمال کرنا نہایت سخت جرم ہے۔

روانڈا میں سنہ 2008 میں پلاسٹک پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ یہ فیصلہ ملک میں شدید گندگی اور آبی آلودگی کو دیکھتے ہوئے کیا گیا۔

روانڈا کے وزیر برائے قدرتی وسائل ونسنٹ بروٹا نے ایک بار عالمی اقتصادی فورم میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اس پابندی سے عام لوگوں کو کوئی مسئلہ نہیں تھا، مسئلہ ان لوگوں کو تھا جو پلاسٹک بنانے کی صنعت سے وابستہ تھے۔

انہوں نے بتایا، ’ان لوگوں نے اس کے خلاف شکایات کیں اور احتجاج بھی کیا، لیکن وقت کے ساتھ انہیں بھی معلوم ہوگیا کہ پلاسٹک پر پابندی سے ہمیں زیادہ فوائد حاصل ہوئے بہ نسبت پلاسٹک کو استعمال کرنے سے‘۔

خیال رہے کہ پلاسٹک ایک ایسا مادہ ہے جسے ختم ہونے یا زمین کا حصہ بننے کے لیے ہزاروں سال درکار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ماحول، صفائی اور جنگلی حیات کے لیے ایک بڑا خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔

پلاسٹک کی تھیلیاں شہروں کی آلودگی میں بھی بے تحاشہ اضافہ کرتی ہیں۔ تلف نہ ہونے کے سبب یہ کچرے کے ڈھیر کی شکل اختیار کرلیتی ہیں اور نکاسی آب کی لائنوں میں پھنس کر انہیں بند کردیتی ہیں جس سے پورے شہر کے گٹر ابل پڑتے ہیں۔

یہ تھیلیاں سمندروں اور دریاؤں میں جا کر وہاں موجود آبی حیات کو بھی سخت نقصان پہنچاتی ہے اور اکثر اوقات ان کی موت کا سبب بھی بن جاتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں پلاسٹک کے بے تحاشہ استعمال کے باعث سنہ 2050 تک سمندر میں مچھلیوں سے زیادہ پلاسٹک موجود ہوگا۔

پلاسٹک کی تباہ کاری کے بارے میں مزید مضامین پڑھیں


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں