وزیراعظم کی تقریر اور عدالتی بیان میں‌ کوئی تضاد نہیں، سعد رفیق ARYNews.tv
The news is by your side.

Advertisement

وزیراعظم کی تقریر اور عدالتی بیان میں‌ کوئی تضاد نہیں، سعد رفیق

اسلام آباد: مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ایوان میں عمران خان کا ٹولہ گند ڈالنے اور شور کرنے آیا تھا، پاناما لیکس پر بات کرنے کو تیار ہیں، تحریک انصاف کے ارکان آئیں اور ہم سے بحث کرلیں۔

اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفت گو کرتے ہوئے سعد رفیق نے کہا کہ یہ کہاں کا انصاف ہے آپ خود تو بولتے رہیں لیکن حکومت کو مائیک ملے تو آپ شور کریں، گزارش ہے کہ حکومت کو پاناما پیپرز کے موضوع پر ایوان میں ایک بار پھر اپوزیشن بحث کرنا چاہتی ہے تو ہم تیار ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کی روایات کے برعکس پی ٹی آئی نے بدتمیزی کی، ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑیں، اسپیکر کا گھیراؤ کیا،عمران خان کا ٹولہ گند ڈالنے اور شور کرنے کے لیے ایوان میں آیا تھا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ عمران خان یو ٹرن کے ماہر ہیں، اقتدار کی بھوک نے عمران خان اینڈ کمپنی کو بے حال کیا ہوا ہے، جب انہیں کچھ نہیں سوجتا تو وہ باہر آکر پش اپس لگانا شروع کردیتے ہیں،کارکن سڑکوں پر نکلتے ہیں اور عمران خان بنی گالہ میں چھپ جاتے ہیں۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ نواز شریف نے جو اسمبلی میں تقریر کی اور عدالت میں جو بیان دیا اس میں کوئی تضاد نہیں ہم پوری ذمہ داری سے یہ بات کہتے ہیں کہتے ہیں کہ وزیراعظم کے قول و فعل میں کوئی تضاد نہیں،سیاسی زبان وہ ہے کہ عمران خان دیتے ہیں، ہم عمران کی طرح گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے کی سیاست نہیں کرتے۔


اسی سے متعلق: قومی اسمبلی کا اجلاس: اسپیکر کا گھیراؤ، پی ٹی آئی نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں


سعد رفیق کا کہنا تھا کہ جب آپ عدالت جاتے ہیں تو ثبوت دینا پڑتے ہیں، قومی اسمبلی عدالت نہیں بن سکتی اور عدالت قومی اسمبلی نہیں بن سکتی، عدالت کسی کی مرضی کے نہیں اپنے حساب سے فیصلے کرتی ہے،پاناما پیپرز میں نام نہ ہونے کے باوجود وزیراعظم نے خود کو رضا کارانہ طور پر پیش کیا جب کہ اپنے بچوں کو بھی ہدایت دی کہ جواب جمع کرائیں تاکہ کوئی انگلی نہ اٹھائے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاناما پیپرز پر انٹرنیٹ سے ڈائون لوڈ کی ہوئی باتیں پی ٹی آئی کا ثبوت ہیں، پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی میں نہیں آتے لیکن پیسے برابر وصول کرتے ہیں، کیا یہ درست عمل ہے؟ان کی تحریک استحقاق عدالتی عمل پر اثر انداز ہونے کی ایک کوشش ہے،اسمبلی میں بحث کرنی ہے تو کریں ہم تیار ہیں۔

انہوں نے پی ٹی آئی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ عمران خان کو کے پی کے میں حکومت نواز شریف کے تدبر کی وجہ سے ملی ،تحریک انصاف ہماری شکر گزار ہو، یہ لوگ پارلیمنٹ سے استعفیٰ دے گئے تھے لیکن ہم نے انہیں قبول نہ کرکے ان پر احسان کیا، ان کے مینڈیٹ کا تحفظ ہم نے کیا، کے پی کے میں بلین ٹرینز کا منصوبہ پتا نہیں کہاں گیا اور اس کی رقم بھی کہیں غائب ہوگئی۔

انہوں نے پی پی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ پیپلز پارٹی ہمارے خلاف عدالت اس لیے نہیں جاتی کیوں کہ ان کے پاس ثبوت نہیں، پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں میرے والد کو شہید کیا گیا، پی پی بتائے میرے والد کو کیوں شہید کیا گیا؟

پاناما کیس پر سعد رفیق نے کہا کہ عمران خان کا وکیل وہ ہی شخص ہے جو عدلیہ بحالی کی تحریک میں مشرف کا پیادہ تھا، شریعت میں لوگوں پر انگلیاں اٹھانے کی ممانعت ہے ، عمران خان صاحب کس طرح لوگوں پر انگلیاں اٹھاتے ہیں انہیں کرپشن کے خلاف بات کرتے ہوئے آئینے میں پہلے اپنی شکل دیکھنی چاہیے تھی،انہیں لوگوں کے ٹیکس کی رقم گنتے ہوئے شرم نہیں آتی دراصل سارے پاکستان کے چور عمران خان کے گرد جمع ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں