The news is by your side.

اسلام آباد ایئر پورٹ پر بیٹھنے کی جگہ نہیں تھی، کرسیاں مجھے لگوانی پڑیں: خواجہ سعد رفیق

اسلام آباد: وفاقی وزیر ہوا بازی و ریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ایئر پورٹ پر بیٹھنے کی جگہ نہیں تھی، کرسیاں بھی مجھے لگوانی پڑیں۔ انہوں نے ایئر پورٹس پر سہولیات کے فقدان کا اعتراف کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر ہوا بازی و ریلوے خواجہ سعد رفیق نے سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے ایئر پورٹس پر سہولیات کے فقدان کا اعتراف کرلیا۔

خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ بدقسمتی یہ ہے آج بھی کوئی ایئرپورٹ بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں، ہمارے کچھ ملازمین بہت کام کرتے ہیں اور کچھ کوئی کام کرنے کے لیے تیار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومتیں کسی کی بھی ہوں یہ قومی اثاثے پاکستان کے ہیں۔

خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ایئر پورٹ پر بیٹھنے کی جگہ نہیں تھی، کرسیاں بھی مجھے لگوانی پڑیں۔

انہوں نے سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری اداروں میں سیاسی بھرتیاں بند کی جائیں، سیاسی بھرتیاں بند کرنے پر بہترین نتائج سامنے آئیں گے، کام نہ کرنے والے خود بخود فلٹر ہوجائیں گے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ 41 میں سے 11 ایئرپورٹس بند پڑے ہیں، 30 ایئرپورٹس آپریٹڈ ہیں ان میں سے بھی کچھ کام کے نہیں، سیاسی بنیادوں پر ائیر پورٹس بنائے گئے، سیاسی بنیاد پر بنائے گئے ایئر پورٹس پر بڑی سرمایہ کاری کی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ لاہور پشاور اور دیگر شہروں کے لیے چھوٹے طیارے لانے کا منصوبہ ہے، ڈیرہ غازی خان اور سکھر ایئرپورٹ دونوں انٹرنیشنل ائیرپورٹ بننے جا رہے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں