The news is by your side.

Advertisement

آصف زرداری اورعمران خان میں مقابلہ زیادہ بڑی گالی دینےکاہے،سعدرفیق

لاہور : وفاقی وزیر ریلوے سعد رفیق کا کہنا ہے کہ ہمیں کوئی گھبراہٹ نہیں یہ تو ہونا ہی تھا، آصف زرداری شاطر اور سمجھدار آدمی ہیں ،انکے اپنے مسائل اور کمزوریاں ہیں،آصف زرداری اورعمران خان میں مقابلہ زیادہ بڑی گالی دینے کا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے سعد رفیق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں کوئی گھبراہٹ نہیں یہ تو ہونا ہی تھا، ن لیگ ملک کی سب سےبڑی سیاسی جماعت ہے،پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے کوشش کی لیکن اس کو گرا نہ سکے۔

سعدرفیق کا کہنا تھا کہ آئین اورووٹ کی حکمرانی پریقین رکھتے ہیں، ادارے آئین اورقانون کے مطابق کام کریں یہ آئین کی حکمرانی ہے۔ اللہ کرے عام انتخابات وقت پر ہوں۔

انھوں نے کہا کہ مخالفین سیاسی صف بندی کر رہےہیں، مخالفین کوششیں کرکے دیکھ چکے لیکن کامیاب نہیں ہوئے، مخالف جماعتیں ہمیں گرانےکی مشترکہ کوششیں کررہی ہیں، مخالف سیاسی جماعتوں کو ناکامی ہوگی۔

وفاقی وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ ہر خوشحالی کے پییچھے جرم نہیں ہوتا نیکی اور جہدوجہد ہوتی ہے آگے بڑھنے کے لئے انتظار کرنا پڑتا ہے جلدی میں کوئی کام نہیں ہوتا، ہمارے بعض سیاسی مخالفین ایسے ہیں جنھیں ہمیں گرانے کے لئے شیطان سے بھی اتحاد کرنا پڑے تو کریں گے

سعدرفیق نے کہا کہ سول بالادستی کے نظریے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، آصف زرداری شاطر اور سمجھدار آدمی ہیں ان کے اپنے مسائل ہیں ویک پوائنٹ، مالی بددیانتی اور دیگر، آصف زرداری کی سیاست میلٹ ہوچکی ہے لاکھوں سے سینکڑوں پر آگئے۔


مزید پڑھیں : آصف زرداری نامعلوم ایجنڈے پر کام کررہےہیں ،سعد رفیق


انکا کہنا تھا کہ آصف زرداری اور عمران خان میں مقابلہ ہے کون زیادہ گالی دیتا ہے وہ حدود کو کراس کر کے جمہوری نظام کو خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں، وہ ہمیں گالیاں دیکر پاکستان اور اداروں کونقصان پہنچاتے ہیں، پیپلزپارٹی کا اسلام آباد کا جلسہ بہت اچھا پاور شو تھا، ہماری خواہش ہے پیپلزپارٹی پنجاب میں جلسے کرے۔

سعدرفیق نے مزید کہا کہ ملک میں ایک دور تھا جب پرو بھٹو اور اینٹی بھٹو سیاست ہوتی تھی آج پرو نواز شریف اور اینٹی نواز شریف سیاست ہورہی ہے۔

وفاقی وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ ضروری بات یہ ہے کہ تمام ادارے آئین کی حدود میں رہ کر کام کریں ، پاکستان میں چار مارشل لاء لگے ہم نے پہلے بھی قیمت ادا کی اب بھی کررہے ہیں، سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کا فیصلہ عدالتیں ہی کریں گی، کوئیک مارچ کی بات کرنے والا سیاستدان نہیں ہوسکتا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں